تاریخ / مقام: اسلام آباد / جنیوا
معیشت و قومی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
عالمی سطح کے معتبر ادارے ورلڈ اکنامک فورم (WEF) نے اپنے ایک تحلیلی تجزیے میں پاکستان میں انتظامی اور معاشی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے 16 نئے صوبے یا 25 جدید انتظامی یونٹس تشکیل دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی موجودہ گورننس کے نظام کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے، جس کے باعث فیصلہ سازی عام شہریوں سے بہت دور ہو گئی ہے۔
موجودہ صوبائی ڈھانچے کی کمزوریاں اور آبادی کا بوجھ
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 2030ء تک پاکستان کی آبادی 26 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ فی الوقت پاکستان کے صرف 4 صوبوں کی اوسط آبادی تقریباً 6 کروڑ بنتی ہے، جس کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت دور دراز اضلاع سے بہت فاصلے پر واقع ہیں۔ ایک ہی صوبائی حکومت کو بالکل مختلف معاشی اور جغرافیائی ضروریات والے علاقوں کو سنبھالنا پڑتا ہے۔
اس انتظامی فاصلے کے باعث سرکاری خدمات کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے:
- تعلیم کا بحران: 5 سے 16 سال کے تقریباً 28 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
- مالیاتی کمزوری: صوبوں کی اپنی پیدا کردہ آمدن مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کے 0.9 فیصد سے بھی کم ہے۔
- ترقیاتی عدم توازن: پنجاب کے شہر لاہور کی آبادی 1 کروڑ 30 لاکھ ہے جبکہ بلوچستان کے ضلع ہرنائی کی آبادی محض 1 لاکھ 28 ہزار ہے، لیکن پالیسی ایک ہی مرکز سے مرتب ہوتی ہے۔
نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں سے متعلق تجاویز
ورلڈ اکنامک فورم کے ماہرین نے پاکستان کے لیے چند اہم ماڈلز تجویز کیے ہیں:
- 16 صوبوں کا ماڈل: موجودہ 4 صوبوں میں سے ہر ایک کو 4 حصوں میں تقسیم کر کے 16 پہلی سطح کی حکومتیں بنائی جائیں، جس سے فی یونٹ اوسط آبادی 6 کروڑ سے کم ہو کر 1 کروڑ 50 لاکھ رہ جائے گی۔
- 25 یا 30 سے زائد اکائیاں: جغرافیائی اور آبادی کے توازن کے لیے 23 سے 25 اکائیاں، یا موجودہ سول ڈویژنز کی بنیاد پر 30 سے زائد جدید انتظامی اکائیاں قائم کی جائیں۔
عالمی مثالیں اور آئینی و مالیاتی اصلاحات کی ضرورت
رپورٹ میں دنیا کے دیگر بڑی آبادی والے ممالک کی مثالیں دی گئی ہیں جہاں گورننس کی بہتری کے لیے نئے صوبے بنائے گئے:
- انڈونیشیا: 27 صوبوں سے بڑھا کر اب 38 صوبے بنائے جا چکے ہیں۔
- نائجیریا: 3 خطوں سے توسِیع دے کر 36 ریاستیں قائم کی گئیں۔
- کینیا: 2013ء میں 8 صوبوں کے بجائے 47 منتخب کاؤنٹی حکومتیں بنائیں گئیں۔
انڈونیشیا، نائجیریا اور برازیل میں پہلی سطح (صوبے) کی اوسط آبادی 60 سے 80 لاکھ ہے، جبکہ پاکستان کی اوسط 6 کروڑ ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم نے خبردار کیا ہے کہ محض نئے نام دینا کافی نہیں ہوگا بلکہ 18ویں ترمیم اور 7ویں این ایف سی ایوارڈ سے آگے بڑھ کر نئے صوبوں کو مناسب اور یقینی مالی وسائل، ٹیکس وصولی کے حقیقی اختیارات اور مضبوط انتظامی صلاحیت دینا ہوگی، تاکہ فیصلے اور وسائل ان شہریوں کے قریب آ سکیں جو ان کے نتائج سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔
G24 News Online معاشی پالیسیوں، عالمی رپورٹس اور تمام اہم خبریں غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




