ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

سیاست

دھرنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، کے پی میں دہشت گردی کا خاتمہ ہمارا واحد ایشو ہے: محسن نقوی 🛑🔫

دھرنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، کے پی میں دہشت گردی کا خاتمہ ہمارا واحد ایشو ہے: محسن نقوی 🛑🔫
Spread the love

تاریخ / مقام: اسلام آباد

قومی و سیاسی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے پس منظر اور حکومتی فیصلوں پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ حکومت کو کسی دھرنے یا سیاسی سرگرمی سے کوئی اختلاف نہیں، لیکن صوبے میں دہشت گردی اور امن و امان کی ابتر صورتحال اب ناقابلِ برداشت ہو چکی تھی۔

مذاکرات کی ناکامی اور پی ٹی آئی کا رویہ

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ آج کا دن انتہائی مشکل تھا اور پچھلے ایک ماہ سے مسلسل کوشش کی جا رہی تھی کہ خیبر پختونخوا حکومت کو آن بورڈ لیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ بیک گراؤنڈ میں وہ خود کے پی حکومت کے ساتھ رابطے میں تھے اور لانگ مارچ و ملاقاتوں سے متعلق معاملات طے پا رہے تھے۔

وزیر داخلہ نے انکشاف کیا کہ:

  • وزیراعظم کے دورہ نیویارک سے قبل اپوزیشن سے ملاقات کا طے ہوا تھا اور 15 یا 16 اکتوبر کو ملاقات ہونا تھی، مگر کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔
  • صدر اور وزیراعظم کی ملاقات کے بعد جب ڈرافٹ فائنل ہونے کے قریب ہوتا تو اگلی صبح نیا ڈرافٹ سامنے آجاتا۔
  • رات پونے بارہ بجے تک پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطے میں رہے، مولانا فضل الرحمان کے ذریعے بھی آخری کوشش کی گئی، مگر دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
  • دھرنے کو موخر کرنے کی شرط پیپلز پارٹی کی جانب سے تھی، حکومت نے کبھی نہیں کہا کہ دھرنا ختم کریں؛ آپ شوق سے دھرنا دیں، ہماری توجہ صرف انسدادِ دہشت گردی پر ہے۔

کے پی میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور پولیس کی قربانیاں

محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صورتحال اتنی خوفناک ہو چکی ہے کہ کچھ اضلاع میں لوگ شام کے وقت گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔ الیکشن کمشنر کے افسر کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی سمیت دیگر رہنماؤں سے جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں، ان کا واحد موضوع دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز کا مسئلہ اٹھائے جانے پر وفاق نے ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی کرائی، لیکن صوبائی حکومت نے دہشت گردی کی جنگ کو اوون (Own) کرنے سے گریز کیا۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران صوبے میں 518 پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے جوان اپنی جانیں گنوائیں اور صوبائی حکومت اس سے لاتعلقی اختیار کرے؟ مجبوری کے تحت ہمیں گورنر راج کا سخت فیصلہ کرنا پڑا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مؤقف

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے دو سے اڑھائی سال کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 196 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ فوج، پولیس اور دینی رہنماؤں پر حملے بڑھ چکے ہیں۔ صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکلز کے تحت یہ اقدام اٹھایا ہے، صوبائی حکومت کو غیر فعال کر کے 11 رکنی ایڈوائزری کمیٹی اور 12 نامزد اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم کر دیا گیا ہے، جبکہ آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کو بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق کے پی حکومت اور دہشت گردوں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔ صوبے میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر حملے ہوئے، جبکہ دہشت گردوں کو سیکیور راستے فراہم کیے گئے۔ کوہاٹ کے اسپتال میں زخمی افراد نے بھی گولی مارنے والوں کے خلاف فریاد کی ہے۔

G24 News Online تمام سیاسی پیش رفت، ملکی سلامتی اور اہم بریکنگ خبریں غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *