تاریخ / مقام: پشاور / اسلام آباد
قومی و آئینی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
خیبر پختونخوا میں صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے صوبے کے انتظامی اور آئینی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی آ گئی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے 11 اکتوبر کو جاری کردہ فیصلوں کے بعد اب صوبائی امور چلانے کے لیے نیا عبوری نظام فعال ہو چکا ہے، جبکہ امن و امان کی بحالی کے لیے عسکری اداروں کو بھی سول انتظامیہ کی معاونت کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
سیاسی و آئینی ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی اقدام کے بعد آئندہ کی صورتحال 3 اہم ترین نکات کے گرد گھومے گی۔
1. 11 رکنی ٹیکنوکریٹ مشاورتی کونسل کا قیام
صوبے کے روزمرہ کے انتظامی معاملات کو چلانے کے لیے 11 رکنی ٹیکنوکریٹ مشاورتی کونسل تشکیل دے دی گئی ہے، جس کے اراکین نے اپنے اپنے محکموں کا چارج سنبھال لیا ہے۔
- سربراہی: کونسل کی سربراہی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کر رہے ہیں۔
- محکموں کی تقسیم: مالیات، داخلہ، قانون، تعلیم، صحت، توانائی، صنعت اور مواصلات سمیت دیگر اہم قلمدان ٹیکنوکریٹس میں تقسیم کیے گئے ہیں۔
2. آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کی تعیناتی
وزارتِ داخلہ نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 245 کے تحت خیبر پختونخوا میں پاک فوج کی خدمات سول انتظامیہ کے سپرد کر دی ہیں۔
- نوٹیفکیشن کے مطابق فوج کی تعیناتی کا بنیادی مقصد شہریوں کے جان و مال کی حفاظت، اہم سرکاری تنصیبات کی دیکھ بھال اور امن و امان کو یقینی بنانا ہے۔
- فوج کی تعیناتی کا دورانیہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نافذ العمل رہنے تک منسلک رہے گا، جبکہ درکار نفی اور وسائل کی تعداد گورنر کے پی اور جی ایچ کیو (GHQ) کی باہمی مشاورت سے طے کی جائے گی۔
3. آئینی شقیں: آرٹیکل 232، 234 اور قانونی مستقبل
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ان اقدامات کا جواز صوبے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی کی قومی پالیسی سے صوبائی حکومت کے عدم تعاون کو قرار دیا ہے۔
- آرٹیکل 232: اندرونی بدامنی اور سیکیورٹی کی سنگین صورتحال کے پیشِ نظر صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔
- آرٹیکل 234: آئینی نظام کی ناکامی کی بنیاد پر منتخب صوبائی حکومت کو معطل کر کے گورنر راج قائم کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا باضابطہ پاس ہونا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی منظوری سے مشروط ہے۔
پی ٹی آئی کا موقف اور وزیراعلیٰ کی حراست کی خبریں
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس اقدام کو صوبائی خودمختاری اور جمہوری مینڈیٹ پر شب خون قرار دیتے ہوئے عدالت عالیہ اور پارلیمان میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب، گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی حراست سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آئیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے ان کی گرفتاری کے دعوے کیے گئے، تاہم انتظامی اور پولیس ذرائع کی جانب سے ان کی باضابطہ گرفتاری کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بعض دیگر افراد کو حراست میں لیے جانے کا ذکر کیا مگر وزیراعلیٰ کی حراست پر واضح تصدیق سے گریز کیا۔
G24 News Online خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی، انتظامی اور عدالتی محاذ پر ہونے والی ہر نئی پیش رفت غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




