تاریخ / مقام: پشاور / اسلام آباد
سیاسی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبائی سیاسی صورتحال اور امن و امان کے امور پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق اس وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا، البتہ اگر باضابطہ چینل کے ذریعے استعفیٰ موصول ہوا تو اسے آئین و قانون کے مطابق دیکھا جائے گا۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اہم ملکی و صوبائی امور پر روشنی ڈالی۔
وزیراعلیٰ کی تبدیلی اور استعفیٰ سے متعلق مؤقف
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ “سہیل آفریدی جا رہے ہیں اور علی امین گنڈاپور آ رہے ہیں، اس بارے میں اس وقت کچھ پتا نہیں ہے”۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جب تک وزیراعلیٰ ہاؤس سے باقاعدہ اور قانونی چینل کے ذریعے استعفیٰ موصول نہیں ہوتا، تب تک اس پر کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا اور استعفیٰ موصول ہونے پر ہی اسے باقاعدہ طور پر منظور کیا جائے گا۔
پشاور میں وفاقی کابینہ اور ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ
فیصل کریم کنڈی نے انکشاف کیا کہ انہوں نے وفاقی حکومت سے باضابطہ رابطہ کر لیا ہے اور وزیراعظم پاکستان سے درخواست کی ہے کہ پشاور میں وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس بلایا جائے تاکہ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیر سے ملاقات کر کے پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کی بھی پُر زور درخواست کی ہے۔
پی ٹی آئی کی کارکردگی اور افغانستان سے کواڈ کاپٹرز حملوں پر خاموشی کی تنقید
تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی حالت یہ ہے کہ وہ لانگ مارچ تو کیا، شارٹ مارچ کرنے کے بھی قابل نہیں رہی، اور صرف تاریخ پر تاریخ دینے سے نظام نہیں چل سکتا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی دیگر امور پر تو بیانات دیتے ہیں اور ڈرون حملوں کی مذمت بھی کرتے ہیں، لیکن افغانستان سے آنے والے کواڈ کاپٹرز کے حملوں پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کے پی حکومت نے اب تک اسمبلی میں افغان کواڈ کاپٹرز حملوں کے خلاف کوئی مذمتی قرارداد کیوں پیش نہیں کی؟
G24 News Online سیاسی ہلچل، ملکی حالات اور صوبائی امور سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




