تاریخ / مقام: برسلز / اسلام آباد
انٹرنیشنل و ماحولیاتی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ جانے کے بعد موسمیاتی ماہرین نے دنیا بھر کے لیے ایک سخت وارننگ جاری کر دی ہے۔ یورپی یونین کی موسمیاتی نگرانی کرنے والی سروس ‘کوپرنیکس’ (Copernicus) اور عالمی ماہرین کے مطابق، طاقتور ال نینو اور انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے امتزاج سے 2026 دنیا کا گرم ترین سال بن سکتا ہے، جبکہ 2027 میں بھی گرمی کے نئے عالمی ریکارڈز بننے کا شدید خطشہ ہے۔
سمندر کا درجہ حرارت ریکارڈ 29.70 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، یورپی یونین کے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس نے بتایا ہے کہ بحرالکاہل کے انتہائی حساس اور اہم خطے ‘نینو 3.4’ (Nino 3.4) میں ستمبر کے دوران سمندر کی سطح کا اوسط درجہ حرارت بڑھ کر 29.70 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سطح 1982-83، 1997-98 اور 2015-16 کے ماضی کے طاقتور ترین ال نینو ادوار میں ریکارڈ کی جانے والی بلند ترین سطحوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔
کوپرنیکس کے ڈائریکٹر کارلو بونتیمپو نے اے ایف پی کو بتایا کہ رواں سال جون میں سامنے آنے والا ال نینو انتہائی غیر معمولی نوعیت کا حامل ہے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ عالمی حدت کے باعث سمندروں کا بیس لائن درجہ حرارت پہلے ہی مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے موجودہ ال نینو کا ماضی کے واقعات سے تقابل پیچیدہ ہو چکا ہے۔
ال نینو کیا ہے اور اس کے اثرات کیوں خطرناک ہیں؟
ال نینو (El Nino) بحرالکاہل کے استوائی حصے میں سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں قدرتی طور پر واقع ہونے والا ایک عارضی موسمیاتی رجحان ہے، جو عموماً ہر دو سے سات سال بعد ظاہر ہوتا ہے اور 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے۔
اس رجحان کے باعث دنیا بھر میں موسم کے روایتی معمولات بری طرح تبدیل ہو جاتے ہیں:
- دنیا کے بعض حصوں میں شدید خشک سالی اور قحط کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
- دیگر علاقوں میں طوفانی بارشیں اور تباہ کن سیلاب املاک اور فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
- یہ رجحان انسانی سرگرمیوں (کاربن اخراج اور فوسل فیول کے استعمال) کے باعث ہونے والی عالمی حدت (Global Warming) کے منفی اثرات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
عالمی درجہ حرارت اور مستقبل کے خطرات
کوپرنیکس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر میں دنیا بھر میں سمندر کی سطح کا اوسط درجہ حرارت 21.05 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو اس سے قبل ستمبر 2023 کے 20.92 ڈگری کے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح اگست کے بعد ستمبر بھی تاریخ کا دوسرا گرم ترین مہینہ رہا، جہاں زمینی سطح کے قریب ہوا کا اوسط درجہ حرارت 16.27 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کا اصل اور شدید ترین اثر اس کے عروج کے بعد اگلے سال فضا میں منتقل ہوتا ہے، کیونکہ بحرالکاہل میں جمع ہونے والی حرارت بعد میں ماحول کو گرم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2026 کے بعد 2027 میں بھی گرمی کے نئے عالمی ریکارڈز قائم ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر ماحولیاتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خطرناک امتزاج کرہ ارض پر انسانی زندگی، زراعت اور ماحولیات کے لیے سنگین ترین بحران پیدا کر سکتا ہے۔
G24 News Online عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں، سائنسی تحقیقات اور تمام اہم بین الاقوامی بریکنگ خبریں غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




