ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

سیاست

“خیبرپختونخوا اسمبلی 6 مہینے بعد بحال ہوگی؛ سیاسی مصالحت کا وقت اب ختم ہوچکا ہے!” — نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا سینیٹ میں دوٹوک خطاب 🚨📋

“خیبرپختونخوا اسمبلی 6 مہینے بعد بحال ہوگی؛ سیاسی مصالحت کا وقت اب ختم ہوچکا ہے!” — نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا سینیٹ میں دوٹوک خطاب 🚨📋
Spread the love

تاریخ / مقام: اسلام آباد

قومی و پارلیمانی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اٹھائے گئے تمام اقدامات آئین اور قانون کے مطابق ہیں، اور صوبے میں نافذ کردہ ایمرجنسی و انتظامی ڈھانچے کے تحت خیبرپختونخوا اسمبلی 6 مہینے بعد بحال ہو جائے گی، جبکہ موجودہ حالات میں سیاسی حکومت کی واپسی تک ایک یا دو سال کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔

پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کی اندرونی کہانی

سینیٹ کے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ ہونے والے پچھلے مذاکرات کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین نے معاہدے تک پہنچنے کے لیے پوری تندہی سے کوشش کی تھی، لیکن عین اس رات جب معاہدے پر دستخط ہونا تھے، پی ٹی آئی قیادت نے وزیراعلیٰ سے مشاورت کا بہانہ کرکے دستخط کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

انہوں نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب مولانا صاحب نے تجاویز پیش کیں تو وفاقی کابینہ نے ان پر غور کیا، لیکن کابینہ کا دوٹوک مؤقف تھا کہ سیاسی مصالحت کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔

وفاق کی جانب سے رکھے گئے چار مطالبات

اسحاق ڈار نے انکشاف کیا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے سامنے چار واضح مطالبات رکھے تھے جن کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا:

  1. صوبے کے موجودہ وزیراعلیٰ کو تبدیل کیا جائے۔
  2. کھل کر دہشت گردی کی مذمت کی جائے اور اعلان کیا جائے کہ پی ٹی آئی عسکریت پسندی کے خلاف ہے۔
  3. وفاق اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑی جائے۔
  4. مخصوص اضلاع میں آئینی تقاضوں کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کو تسلیم کیا جائے۔

کے پی فنڈز اور این ایف سی ایوارڈ پر کڑی تنقید

نائب وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کو ملنے والے مالیاتی فنڈز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پچھلے 13 سالوں کے دوران این ایف سی ایوارڈ میں کے پی کو دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے اضافی ایک فیصد حصہ دیا جاتا رہا ہے، جس کے تحت صوبے کو اب تک 800 ارب روپے سے زائد مل چکے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اتنی بڑی رقم کہاں خرچ کی گئی؟ کون سی سی ٹی ڈی (CTD) کھڑی کی گئی یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کیا خرچ کیا گیا؟ صوبے میں آج تک کوئی معیاری فرانزک لیبارٹری تک قائم نہیں کی جا سکی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعلیٰ نے اپنے دورِ حکومت میں خود کو نااہل ثابت کیا ہے کیونکہ پچھلے تین سال کے مقابلے میں گزشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردی کے حملوں میں خطرناک اضافہ ہوا ہے، اور ملک ایسے حالات کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔

ایڈوائزری کونسل اور پروفیشنل اراکین کی تقرری

اسحاق ڈار نے صوبے کی نئی انتظامی ایڈوائزری کونسل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کونسل میں کسی کا سیاسی پس منظر نہیں ہے بلکہ تمام ماہر اور پروفیشنل افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کیا جنرل نگار صوبے کے صحت کے مسائل کو بہتر طریقے سے حل نہیں کر سکتیں؟ وفاقی حکومت گورنر اور صوبے کے انتظامی امور میں اس کونسل کو بھرپور حمایت فراہم کرتی رہے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک زمینی حقائق (Ground Realities) درست نہیں ہو جاتے اور عوامی فلاح کے لیے فنڈز کا درست استعمال یقینی نہیں بنایا جاتا، حکومت اپنے اس مؤقف پر قائم رہے گی۔ اس کے بعد سینیٹ کا اجلاس کل شام چار بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

G24 News Online پارلیمنٹس کی کارروائی، سیاسی ڈراموں اور تمام اہم قومی بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *