تاریخ / مقام: ایبٹ آباد / پشاور / اسلام آباد
قومی و احتساب ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
خیبرپختونخوا کے مشہور و معروف کوہستان مالی اسکینڈل میں قانون کا شکنجہ مزید سخت ہو گیا ہے۔ اسکینڈل میں نامزد ایک اہم ملزم کے اہل خانہ نے رضاکارانہ طور پر 5 کروڑ 53 لاکھ روپے مالیت کی جائیداد قومی احتساب بیورو (نیب) خیبرپختونخوا کے حوالے کر دی ہے، جبکہ احتساب عدالت میں ملزم کے بیٹے اور بیٹی کے باضابطہ بیانات بھی قلمبند کر لیے گئے ہیں۔
ایبٹ آباد میں جائیدادوں کی خریداری اور نیب انکوائری
نیب پراسیکیوٹر کے مطابق کوہستان کرپشن اسکینڈل میں نامزد ملزم محمد نصیر پر یہ سنگین الزام ہے کہ اس نے کرپشن کی مبینہ رقم سے اپنے بیٹے اور بیٹی کے نام پر ایبٹ آباد میں 10 مرلہ اور 33 مرلہ کے مکانات اور جائیدادیں خریدی تھیں۔
احتساب عدالت کے جج محمد ظفر کی عدالت میں ملزم اور اس کے بچوں کے حلفیہ بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ ملزم کے بچوں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اس بات کا بالکل علم نہیں تھا کہ یہ جائیدادیں ان کے والد نے کسی کرپشن یا اسکینڈل کی مبینہ رقم سے خریدی ہیں۔
پلی بارگین کی درخواست اور عدالتی کارروائی
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم محمد نصیر اس سے قبل نیب کو پلی بارگین (Plea Bargain) کے لیے بھی باضابطہ درخواست دے چکا ہے۔ عدالت نے جائیداد کی واپسی اور اس سے متعلق تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ملزم اور اس کے بچوں کے بیانات ریکارڈ کا حصہ بنا لیے ہیں۔ اس پیش رفت کو کوہستان اسکینڈل کی تحقیقات میں ایک اہم اور بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
G24 News Online احتساب عدالتوں، کرپشن کے خلاف کارروائیوں اور تمام اہم قومی بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




