تاریخ / مقام: کراچی
قومی، قانون و ترقیاتی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مشہور میر رضا کیس اور کراچی کی مجموعی امن و امان اور ترقیاتی صورتحال پر اپنا اہم ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میر رضا کیس کے حوالے سے قائم کردہ جوڈیشل کمیشن جو بھی سفارشات پیش کرے گا اس پر حرفِ بحرف اور مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا، تاہم کسی ایک فرد کی انفرادی غلطی کو پورے پولیس محکمے کی ناکامی یا غلطی قرار دینا شدید زیادتی ہے۔
ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر وزیر نے کہا کہ میر رضا کیس میں جس کسی کی بھی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوگی، اسے قانون کے مطابق سخت سزا ملے گی۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ یہ وہی سندھ پولیس ہے جس نے ماضی میں سنگین ترین مقدمات، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے بڑے نیٹ ورکس کو بے نقاب اور حل کر کے دکھایا ہے۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ اور وزراء کمیٹی
شرجیل میمن نے کیس کے قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا:
- کابینہ کی کمیٹی: سندھ کابینہ کے فیصلے کے تحت ہی میر رضا کیس پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا، جس کی باقاعدہ رپورٹ کابینہ کے اجلاس میں پیش کر دی گئی ہے۔
- 3 سینئر وزراء کا جائزہ: وزیراعلیٰ سندھ نے اس رپورٹ کے باریک بینی سے مطالعے کے لیے ضیاء الحسن لنجار، سعید غنی اور ناصر شاہ پر مشتمل 3 سینئر وزراء کی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے، جو سفارشات کی روشنی میں کابینہ کو حتمی آگاہی فراہم کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ مقدمہ پولیس محکمے کے لیے بھی ایک بڑا سبق ہے تاکہ آئندہ جلد بازی اور عجلت کے بجائے گہرائی اور مکمل شفاف تحقیقات کی جائیں۔
کراچی کے ٹرانسپورٹ منصوبے: ریڈ، یلو، اورنج لائن اور ڈبل ڈیکر بسیں
کراچی میں ٹریفک اور پبلک ٹرانسپورٹ کے دیرینہ مسائل سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا:
- بی آر ٹی منصوبے: اورنج لائن تیار ہے جبکہ ریڈ لائن منصوبے کے تحت یونیورسٹی روڈ کا سب سے مشکل کام مکمل ہو چکا ہے اور اب اسٹیشنز اور ڈپو تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ یلو لائن اور جام صادق پل کے دوسرے حصے پر جلد کام شروع ہو رہا ہے، جس پر تعمیر کے دوران شہریوں کو پیش آنے والی ممکنہ زحمت پر انہوں نے پیشگی معذرت بھی کی۔
- ڈبل ڈیکر بسیں اور خواتین کے لیے اقدامات: انہوں نے بڑا اعلان کیا کہ نومبر میں بڑی تعداد میں جدید ڈبل ڈیکر بسیں کراچی پہنچ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے لیے پنک بسیں چلانے کے ساتھ ساتھ مفت پنک اسکوٹیز بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
- خواتین کے لائسنس میں نمایاں اضافہ: انہوں نے سنسنی خیز اعداد و شمار بتائے کہ ایک سال قبل پورے سندھ میں صرف 125 خواتین کے پاس موٹر سائیکل ڈرائیونگ لائسنس تھے، جبکہ آج 50 ہزار سے زائد خواتین نے درخواستیں دی ہیں اور 25 ہزار سے زائد لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گرین لائن اب سندھ حکومت کامیابی سے چلا رہی ہے جس سے مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ شاہراہِ بھٹو، کراچی پورٹ سے کورنگی سڑک، ناردرن بائی پاس ٹرک اسٹینڈ، اور پانی کو صاف کر کے قابلِ استعمال بنانے کے میگا پروجیکٹس پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔
G24 News Online کراچی کے ترقیاتی منصوبوں، عدالتی اپ ڈیٹس، اور تمام اہم قومی خبریں غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




