تہران/ بین الاقوامی ڈیسک: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے خلیجی ممالک کو دوٹوک پیغام دے دیا ہے۔ ایرانی مسلح افواج کی جانب سے پڑوسی اور خلیجی ممالک کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے کسی بھی شکل میں امریکی فوجی کارروائیوں کی حمایت یا سہولت کاری کی، تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
📌 ایرانی چیف آف اسٹاف کا سخت بیان
فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ اور ایرانی خبر رساں ادارے ‘مہر’ کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ:
- براہِ راست شرکت تصور ہوگی: خلیجی ممالک کی جانب سے امریکی فوج کو کسی بھی قسم کی معاونت، لاجسٹک سپورٹ یا فضائی و زمینی سہولت فراہم کرنے کو ایران عام مدد نہیں بلکہ براہِ راست “امریکی فوجی کارروائی میں شرکت” تصور کرے گا۔
- نتائج کی ذمہ داری: تہران کا موقف ہے کہ اس خطے میں کسی بھی جارحیت یا اس کے ردعمل کی تمام تر ذمہ داری ان ممالک پر عائد ہوگی جو امریکی کارروائیوں میں سہولت فراہم کریں گے۔
⚠️ خطے میں بڑھتا ہوا دباؤ
یہ تازہ انتباہ ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ خطے میں موجود امریکی فوجی سرگرمیوں کے باعث خلیجی ممالک پہلے ہی ایک کادبائو کا شکار ہیں، کیونکہ وہ ایک طرف اپنے اتحادی امریکا اور دوسری طرف اپنے قریبی ہمسایہ ملک ایران کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران کے اس سخت انتباہ کے بعد خلیجی ممالک کے لیے سفارتی چیلنجز مزید بڑھ گئے ہیں، اور ماہرین اسے خطے کی سکیورٹی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔




