کھنڈوا/ انٹرنیشنل ڈیسک: بھارت کے شہر کھنڈوا میں ایک انتہائی انوکھا اور حیران کن احتجاج دیکھنے میں آیا، جہاں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے تنگ آ کر ایک شہری نے حکام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ‘کتا’ بن کر سرکاری دفتر کا رخ کر لیا۔ اس منفرد احتجاج نے نہ صرف مقامی انتظامیہ کو ششدر کر دیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔
📌 احتجاج کا منفرد انداز
میونسپل کارپوریشن کی عوامی سماعت کے دوران جب یہ شہری کتے کا ماسک پہن کر اور کتے کا روپ دھارے دفتر پہنچا، تو وہاں موجود عملہ حیران رہ گیا۔
- حکام کا ردعمل: ابتدا میں سیکیورٹی اہلکاروں نے اس شہری کو دفتر میں داخل ہونے سے روک دیا، تاہم موقع پر موجود اپوزیشن رہنماؤں کی مداخلت کے بعد اسے داخلے کی اجازت دی گئی۔
📉 حقائق اور سنگین الزامات
احتجاج کرنے والے شہریوں کا ساتھ دیتے ہوئے میونسپل کارپوریشن کے اپوزیشن لیڈر دیپک راٹھور نے انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے:
- فنڈز کا ضیاع: ان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران شہر میں آوارہ کتوں کی نس بندی (Sterilization) کے نام پر تقریباً 40 لاکھ بھارتی روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، مگر عملی طور پر کوئی بہتری نہیں آئی۔
- بڑھتے ہوئے کیسز: اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار سالوں میں شہر میں 13 ہزار 225 کتے کاٹنے (Dog Bite) کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے شہریوں، خصوصاً بچوں، خواتین اور بزرگوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے اور ہر طرف خوف کا عالم ہے۔
🔍 مطالبات اور سرکاری یقین دہانی
مظاہرین نے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ:
- نس بندی مہم پر خرچ کیے گئے فنڈز، ٹینڈرز اور متعلقہ ایجنسی کی شفاف تحقیقات کریں۔
- یہ جواب دیں کہ لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود آوارہ کتوں کی تعداد میں کمی کیوں نہیں آئی؟
اس انوکھے احتجاج کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ADM) نے شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر تحقیقات میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا غفلت ثابت ہوئی، تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔




