Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

🇷🇺 روس کا یوکرینی صدر کے آبائی شہر میں شاپنگ سینٹر پر ہولناک حملہ؛ 14 افراد ہلاک، 22 بچوں سمیت 120 سے زائد زخمی

🇷🇺 روس کا یوکرینی صدر کے آبائی شہر میں شاپنگ سینٹر پر ہولناک حملہ؛ 14 افراد ہلاک، 22 بچوں سمیت 120 سے زائد زخمی
Spread the love

کیف/ انٹرنیشنل ڈیسک: روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازعہ ایک بار پھر خونی موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ روسی فوج نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے آبائی شہر میں واقع ایک انتہائی مصروف شاپنگ سینٹر پر دو ڈرون حملے کیے، جس کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ 22 بچوں سمیت 120 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

📌 حملے کی تفصیلات: “ڈبل ٹیپ” کارروائی

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق حملہ جمعے کے روز اُس وقت کیا گیا جب شاپنگ سینٹر گاہکوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

  • شدید آگ اور تباہی: ڈرون حملے سے شاپنگ سینٹر میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور دھواں پوری عمارت میں پھیل گیا، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
  • ریسکیو حکام کا مؤقف: حکام کے مطابق 14 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 29 افراد کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

🗣️ یوکرینی صدر کا ردعمل اور دوسرا حملہ

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو انتہائی سنگین اور ایک سوچی سمجھی “دانستہ کارروائی” قرار دیا ہے۔

  • امدادی ٹیموں کو نشانہ بنانا: صدر زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ پہلا ڈرون گرنے کے بعد جب رضاکار اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں تو روس نے دوسرا ڈرون حملہ کیا، جس کا مقصد انسانی جان بچانے والوں کو نشانہ بنانا تھا۔

📜 تاریخ اور حالیہ کشیدگی کا پس منظر

یہ پہلا موقع نہیں جب یوکرینی صدر کا آبائی شہر روسی حملوں کا نشانہ بنا ہے۔

  • ماضی کے واقعات: اپریل 2025 میں بھی اسی شہر پر ہونے والے ایک حملے میں 9 بچوں سمیت 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
  • کیف پر میزائل حملہ: حالیہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب روس نے یوکرین کے مختلف شہروں پر فضائی حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔ اس سے ایک روز قبل ہی دارالحکومت کیف پر ہونے والے روسی بیلسٹک میزائل حملے میں 16 سے 17 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

روس کی جانب سے یوکرین کے شہری مراکز اور عوامی مقامات پر حملوں میں حالیہ تیزی نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

ایک تبصرہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *