Skip to main content

G24 News Online

ٹیکنالوجی

🤖 مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال سے قومی سلامتی کو سنگین خطرہ؛ نئی رپورٹ میں اہم انکشاف

🤖 مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال سے قومی سلامتی کو سنگین خطرہ؛ نئی رپورٹ میں اہم انکشاف
Spread the love

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیسک: ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال سے دہشت گرد گروہوں اور دیگر شرپسند عناصر کو خطرناک کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں سے متعلق معلومات تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے.

📌 حفاظتی رکاوٹوں کو تبدیل کرنے کا خطرہ

  • سیکیورٹی ماہرین کے مطابق عام دستیاب بعض مصنوعی ذہانت کے ماڈلز میں موجود حفاظتی رکاوٹوں کو تبدیل کرکے ان سے نقصان دہ نوعیت کی معلومات حاصل کیے جانے کا خدشہ ہے.
  • تحقیقی ادارے کرمزن فلیئر کی رپورٹ کے مطابق بعض اوپن اور آف لائن اے آئی ماڈلز کو اس انداز میں تبدیل کیا جاسکتا ہے کہ ان کی حفاظتی پابندیاں مؤثر نہ رہیں.
  • محققین کا کہنا ہے کہ ایسے ماڈلز کے غلط استعمال سے کم سائنسی معلومات رکھنے والے افراد بھی خطرناک نوعیت کی معلومات تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں، جس سے غلط استعمال کے ممکنہ خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے.

🔍 ’ایبلیٹریشن‘ کا نیا طریقہ اور اوپن ویٹ ماڈلز

  • رپورٹ میں ایک نئے طریقے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جسے غیر رسمی طور پر ایبلیٹریشن کہا جاتا ہے.
  • ماہرین کے مطابق اس طریقے کے ذریعے بعض اے آئی ماڈلز کی حفاظتی حدود کو تیزی سے کمزور کیا جاسکتا ہے، جس کے بعد تبدیل شدہ ماڈلز انٹرنیٹ پر دیگر افراد کے لیے بھی دستیاب ہوسکتے ہیں.
  • محققین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے غیر محدود اور طاقتور اوپن ویٹ بڑے زبان ماڈلز (ایل ایل ایمز)، جو عام صارفین کے کمپیوٹرز پر آف لائن چلائے جاسکتے ہیں، مستقبل میں قومی سلامتی کے لیے سنگین اور بڑھتا ہوا خطرہ بن سکتے ہیں.
  • رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے مؤثر حفاظتی نظام، نگرانی اور مناسب حفاظتی اقدامات بھی ناگزیر ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *