اسلام آباد/ تحقیقاتی ڈیسک: اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے دلخراش آتشزدگی کے واقعے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، جس میں کئی اہم اور چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ اے سی کے کمپریسر یا شارٹ سرکٹ کی وجہ سے نہیں بلکہ نجی وارڈ میں موجود آکسیجن اور نیبولائزر کے دھماکے کے باعث پیش آیا۔
📌 آتشزدگی کی اصل وجہ (انکیوبیٹر اور نیبولائزر دھماکا)
- ابتدائی رپورٹ کے انکشافات: ذرائع کے مطابق فائرنگ یا شارٹ سرکٹ کی افواہوں کے برعکس، نیو بارن انٹেন্সিভ کیئر یونٹ (NICU) میں انکیوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والا نیبولائزر پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں آکسیجن نے فوری طور پر آگ پکڑ لی۔
- دھواں اور بچوں کی اموات کی وجہ: رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آگ لگنے سے شدید دھواں پیدا ہوا جو پائپ کے ذریعے بچوں کے سانس کی نالیوں میں چلا گیا۔ بچوں کی موت کی بنیادی وجوہات میں آکسیجن کی سپلائی بند ہونا اور شدید جھلسنا شامل ہیں۔
- آگ کا پھیلاؤ: ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر آگ کی شدت کم تھی، تاہم آکسیجن کی موجودگی کے باعث یہ تیزی سے پھیل گئی۔
🚪 انتظامی غفلت؛ تالا کھولنے میں تاخیر
- تحقیقاتی ذرائع کے مطابق سانحے کے وقت نرسری کے باہر لگے تالے کو کھولنے میں شدید تاخیر ہوئی۔
- ایمرجنسی کی ایسی صورتحال میں یہ طے ہی نہیں تھا کہ نرسری کا تالا کس نے کھولنا ہے، جس کی وجہ سے بروقت امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں۔
🏢 دیگر وارڈز کی محفوظ صورتحال
- ذرائع کا کہنا ہے کہ نرسری والے فلور پر لیبر روم اور کینگرو روم بھی موجود ہیں، جبکہ نرسری کے علاوہ 8 کمرے ماؤں کے لیے بھی بنے ہوئے ہیں۔
- ان 8 کمروں میں مزید نوزائیدہ بچے اور مائیں بھی داخل تھیں جو کہ معجزاتی طور پر محفوظ رہیں، ورنہ آگ کے اس تیزی سے پھیلنے پر مزید ماؤں اور بچوں کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا تھا۔




