تاریخ / مقام: لِمرِکس / ڈبلن
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
مصنوعی ذہانت (AI) کے دائرہ کار میں توسیع کے ساتھ ہی ایک نئی اور حیرت انگیز تحقیق سامنے آئی ہے جس کے مطابق ملازمت پر پیش آنے والے روایتی صنفی امتیازات کا دائرہ اب ورچوئل دنیا اور اے آئی ایجنٹس تک بھی پھیل چکا ہے۔
یونیورسٹی آف لِمرِکس کی تحقیق اور اہم انکشافات
آئرلینڈ کی یونیورسٹی آف لِمرِکس میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں کو معلوم ہوا ہے کہ ورچوئل ریئلٹی (VR) آفس میں کام کرنے والے انسان مرد، مرد اے آئی ایجنٹس کو ان کی خواتین اے آئی ساتھیوں کے مقابلے میں زیادہ معاوضہ ادا کرتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اگرچہ تمام اے آئی اسسٹنٹس کی بنیادی ٹیکنالوجی بالکل ایک جیسی ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود خواتین اے آئی ایجنٹس کو ایک جیسا اور یکساں کام مکمل کرنے پر مرد اے آئی بوٹس سے تقریباً 10 فیصد کم معاوضہ دیا گیا۔
انسانی تعصبات کا اے آئی سسٹمز پر اثر
تحقیق کی شریک مصنفہ ڈاکٹر میری ہاؤسفیلڈ (Dr. Mary Housefield) نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ اگرچہ ان تمام اے آئی ایجنٹس کی بنیاد ایک ہی جیسی ٹیکنالوجی پر ہے، لیکن اس کے باوجود لوگ ان کے ساتھ یکساں برتاؤ نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی مکمل طور پر غیر جانبدار ہوتی ہے، لیکن جس طرح ہم ان سسٹمز کو ڈیزائن اور پیش کرتے ہیں، وہ دراصل ان ہی خیالات اور غیر محسوس جھکاؤ (Biases) کی عکاسی کرتے ہیں جو روزمرہ کی زندگی میں انسانوں کے ساتھ ہماری گفتگو اور رویوں میں پائے جاتے ہیں۔
G24 News Online ٹیکنالوجی کے نئے رجحانات، سائنسی تحقیقات اور تمام اہم بین الاقوامی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




