تحریر و تحقیق۔۔ صالحہ کامران
زمین کو خلائی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سائنس دان مسلسل نئی ٹیکنالوجیز پر کام کر رہے ہیں۔ ان خطرات میں بڑے سیارچے بھی شامل ہیں، جو اگر زمین سے ٹکرا جائیں تو بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔چین میں اکیڈمی آف لانچ وہیکل اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے ایسے سیارچوں کا راستہ تبدیل کرنے کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی پر توجہ مرکوز کی ہے، جس میں خلائی مشن اور جوہری دھماکے کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
زمین کے لیے خطرہ بننے والے سیارچے
خلاء میں موجود سیارچے سورج کے گرد گردش کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض کے مدار زمین کے قریب سے گزرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی نگرانی ضروری سمجھی جاتی ہے۔
ماہرینِ فلکیات ایسے سیارچوں کی جسامت، رفتار اور مدار کا مسلسل جائزہ لیتے ہیں تاکہ ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ بڑے سیارچے اگر زمین سے ٹکرا جائیں تو شدید دھماکے، وسیع پیمانے پر تباہی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
سیارچوں کا راستہ تبدیل کرنے کی نئی حکمتِ عملی
سائنس دانوں کی جانب سے پیش کیے گئے ایک تصور کے مطابق، اگر کوئی بڑا سیارچہ زمین کی طرف بڑھ رہا ہو تو ایک خصوصی خلائی جہاز اس تک پہنچ کر اس کے اندر کھدائی کر کے جوہری آلہ نصب کر سکتا ہے۔اس تصور میں سیارچے کے اندر جوہری دھماکے کے ذریعے اس کی حرکت اور سمت میں تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ وہ زمین سے ٹکرانے کے بجائے اپنے مدار سے ہٹ جائے۔تاہم، اس طرح کے منصوبے کو عملی طور پر کامیاب بنانے کے لیے سیارچے کی ساخت، اس کے حجم اور دھماکے سے پیدا ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔
100 میٹر کا سیارچہ اور جوہری دھماکے کی طاقت
تقریباً 100 میٹر قطر کا سیارچہ بھی زمین کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ اگر ایسا سیارچہ زمین سے ٹکرائے تو اس کے اثرات وسیع علاقے تک پھیل سکتے ہیں۔سائنس دانوں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ کسی خطرناک سیارچے کو زمین کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی اس کا راستہ تبدیل کر دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے خلائی جہاز، جوہری ٹیکنالوجی اور جدید سائنسی حسابات پر مبنی مختلف طریقوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
زمین کو سیارچوں کے ممکنہ تصادم سے محفوظ رکھنا جدید سائنس کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔ سیارچوں کی مسلسل نگرانی، جدید خلائی مشن اور ان کے مدار میں تبدیلی کے طریقوں پر تحقیق مستقبل میں ممکنہ خطرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ سائنس دانوں کی یہ کوششیں انسانیت کو خلائی خطرات سے محفوظ رکھنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔




