ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

🇦🇹 آسٹریا میں 14 سال سے کم عمر طالبات کے اسکارف پر پابندی کا قانون نافذ؛ خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کا سامنا

🇦🇹 آسٹریا میں 14 سال سے کم عمر طالبات کے اسکارف پر پابندی کا قانون نافذ؛ خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کا سامنا
Spread the love

ویانا/انٹرنیشنل ڈیسک: آسٹریا میں تعطیلات کے بعد اسکول کھلنے کے ساتھ ہی 14 سال سے کم عمر طالبات کے اسکارف پہننے پر پابندی کا متنازع نیا قانون باضابطہ طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد کم عمر لڑکیوں کی ذاتی آزادی اور خودمختاری کا تحفظ کرنا ہے، جبکہ انسانی حقوق اور مسلم تنظیموں کی جانب سے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

📌 قانون کی تفصیلات اور جرمانوں کا نظام

  • پارلیمنٹ سے منظوری: یاد رہے کہ یہ قانون گزشتہ سال دسمبر میں پارلیمنٹ سے منظور ہوا تھا، جسے ملک کی انتہائی دائیں بازو کی فریڈم پارٹی کی بھرپور حمایت بھی حاصل تھی۔
  • جرمانوں کی سخت سزائیں: نئے قانون کے تحت پابندی کی خلاف ورزی کی صورت میں اسکول انتظامیہ کو سب سے پہلے طالبہ اور اس کے والدین سے بات چیت کرنا ہوگی، تاہم احکامات کی مسلسل خلاف ورزی پر 150 سے 800 یورو تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

⚖️ مسلم کمیونٹی کا سخت ردعمل اور ماضی کے عدالتی فیصلے

  • اسلامک ریلیجیئس کمیونٹی کا مؤرخہ اعلان: آسٹریا میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ’اسلامک ریلیجیئس کمیونٹی اِن آسٹریا‘ نے اس قانون کو بنیادی حقوق اور مذہبی آزادی کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔
  • ماضی کا عدالتی پس منظر: آسٹریا کی آئینی عدالت ماضی میں بھی کم عمر بچیوں کے اسکارف سے متعلق اس نوعیت کے ایک اقدام کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ سال 2020 میں عدالت نے 10 سال سے کم عمر بچیوں کے اسکارف پر پابندی ختم کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ یہ اقدام مسلمانوں کے خلاف امتیازی نوعیت کا حامل ہے۔

🔍 مذہبی آزادی اور بچوں کے حقوق پر نئی بحث

  • سماجی و سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث: اس نئے قانون کے نفاذ کے بعد سے آسٹریا میں مذہبی آزادی، کم عمر بچوں کے حقوق اور اسکولوں میں مذہبی علامات کے استعمال سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ماہرین قانون اور انسانی حقوق کے ادارے اس کے منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *