
واشنگٹن/انٹرنیشنل ڈیسک: سابق امریکی سی آئی اے ڈائریکٹر اور ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی ریاستوں میں فعال امریکی فوجی اڈوں کو برقرار رکھنا اب پہلے کی طرح قابلِ عمل نہیں رہا۔ بدلتی ہوئی جنگی حرکیات اور ایران کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات نے امریکی دفاعی حکمت عملی کو شدید چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔
📌 میزائل انٹرسیپٹرز کا بحران اور مہنگے دفاعی نظام
- انٹرسیپٹرز کا نصف ذخیرہ استعمال: ’گلوبل گیمبٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈیوڈ پیٹریاس نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران امریکی فضائی دفاعی صلاحیتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکا اپنے قیمتی میزائل انٹرسیپٹرز کا تقریباً نصف حصہ استعمال کر چکا ہے۔
- معاشی بوجھ: سابق سی آئی اے سربراہ کا کہنا تھا کہ تقریباً 50 ہزار ڈالر مالیت کے سستے ڈرون کو تباہ کرنے کے لیے انتہائی مہنگا میزائل انٹرسیپٹر استعمال کرنا معاشی اعتبار سے طویل عرصے تک قابلِ برداشت حکمت عملی نہیں ہوسکتی۔


🇺🇦 یوکرین کے تجربات سے سبق لینے کی ضرورت
- کم لاگت ڈرونز کا استعمال: پیٹریاس نے تجویز دی کہ امریکا کو یوکرین کے جنگی تجربات سے سیکھنے کی ضرورت ہے، جہاں روزانہ ہزاروں کم قیمت ڈرونز استعمال کیے جا رہے ہیں۔
- بڑے اہداف کو نقصان: یوکرینی فورسز نے روس کی آئل اسٹوریج، ریفائنریوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر ثابت کر دیا ہے کہ کم لاگت ڈرونز کے ذریعے بھی بڑے اور مہنگے فوجی و معاشی اہداف کو بھاری نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔
🎯 حملوں کی زد میں رہنے والے اہم امریکی اڈے
رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جن اہم امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے کیے گئے، ان میں درج ذیل شامل ہیں:
- اردن: میرین کور کی تنصیب، کنگ حسین بیس، پرنس حسن ایئر بیس اور الازرق ایئر بیس۔
- کویت: احمد الجابر ایئر بیس اور علی السالم ایئر بیس۔
- بحرین: امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ سے منسلک اثاثے اور شیخ عیسیٰ ایئر بیس۔
- متحدہ عرب امارات و قطر: متحدہ عرب امارات کے المنہاد اور الظفرہ ایئر بیس، جبکہ قطر میں واقع العدید ایئر بیس (جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی سب سے بڑی فوجی تنصیب شمار کی جاتی ہے) بھی شامل ہیں۔
- عراق: عراق کے شہر اربیل میں موجود امریکی تنصیبات اور گوداموں کو بھی مبینہ طور پر حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔




