ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائی میں شمولیت پر فوری غور! 🇺🇸🇸🇦💣

ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائی میں شمولیت پر فوری غور! 🇺🇸🇸🇦💣
Spread the love

تاریخ / مقام: واشنگٹن / ریاض

بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حالیہ ڈرون یا میزائل حملے کے بعد حوثیوں کے خلاف سعودی فوجی کارروائیوں میں امریکی فوج کی شمولیت سے متعلق انتہائی جلد فیصلہ کریں گے۔

وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کا بیان

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ امریکہ، سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمن کے ایران حامی حوثی باغیوں کے خلاف مشترکہ فوجی آپریشن اور جوابی کارروائی کا حصہ بننے کا جائزہ لے رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا:

“مجھے اس حملے سے متعلق ابھی تفصیلات معلوم ہوئی ہیں۔ ہم اس سارے معاملے کا گہرائی سے جائزہ لیں گے اور اس پر بہت جلد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے بہت تیزی سے فیصلے کرتا ہے۔”

ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے اثرات اور خطے کی صورتحال

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کی جانب سے کیے گئے حملے میں کم از کم 5 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر مقامی اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ (ICU) میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی خدشات اور علاقائی کشیدگی عروج پر ہے۔ یمن میں فعال ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان شدت اختیار کرتی یہ جنگی کشیدگی خطے کی مجموعی سلامتی اور ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے شدید خطرات پیدا کر رہی ہے، جس کے پیشِ نظر عالمی برادری کی نظریں امریکہ کے اگلے ممکنہ فوجی اقدام پر ٹکی ہوئی ہیں۔

G24 News Online مشرقِ وسطیٰ کے حالات، عالمی تنازعات اور تمام بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *