بیجنگ/انٹرنیشنل ڈیسک: چینی ایرو اسپیس محققین نے مستقبل کے ممکنہ تنازعات کے حوالے سے ایک انتہائی اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ زمین اور چاند کے درمیانی خلائی خطے (سیسلونر اسپیس) میں مستقبل میں دفاعی مقابلے اور رسہ کشی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ اس حوالے سے ایک تفصیلی تحقیق معتبر جریدے ’جرنل آف کمانڈ اینڈ کنٹرول‘ میں شائع کی گئی ہے۔
📌 سیسلونر اسپیس میں ممکنہ جنگی منظرنامے اور خلائی دوڑ
- خلائی جہازوں کا تعاقب اور ناکہ بندی: تحقیق میں ایسے ممکنہ منظرناموں کا تصور پیش کیا گیا ہے جن میں حریف ممالک کے خلائی جہاز خلا میں ایک دوسرے کا تعاقب کر سکیں گے، دشمن کے دفاعی نظاموں سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھیں گے اور اہم خلائی راستوں کو بلاک کرنے کی کوشش کریں گے۔
- اچانک کارروائی کی پوزیشن: محققین کے مطابق چاند کے گرد موجود پیچیدہ کششِ ثقل کے ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خلائی جہاز ایسے مقامات پر پوزیشن سنبھال سکتے ہیں جہاں سے وہ زمین کے قریب موجود اہداف کے خلاف اچانک کارروائی کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیں۔
🛑 ’چوک پوائنٹس‘ اور خلائی راستوں کا کنٹرول
- اسٹریٹجک مقامات کی نشاندہی: تحقیق میں ایسے مخصوص ’چوک پوائنٹس‘ کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں اہم یا کم ایندھن والے خلائی راستے ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔
- براہِ راست تصادم کے بغیر دباؤ: کسی بھی ملک کی جانب سے ان اہم مقامات پر موجودگی حریف کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے، اسے راستہ تبدیل کرنے یا کسی خلائی مشن میں تاخیر پر مجبور کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، اور یہ سب کچھ بغیر کسی براہِ راست تصادم کے ممکن ہوگا۔
🛰️ خلاء پر مجموعی کنٹرول اور دفاعی رکاوٹ
- نچلے زمینی مدار سے زیادہ پیچیدہ ماحول: سیسلونر اسپیس میں زمین اور چاند کی مشترکہ کششِ ثقل خلائی جہازوں کی نقل و حرکت پر گہرا اثر ڈالتی ہے، جس کے باعث یہاں نچلے زمینی مدار (LEO) کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ راستے موجود ہیں۔
- مجموعی کنٹرول کا حصول: محققین کے مطابق مستقبل میں اس خطے کی اہمیت صرف انفرادی خلائی جہازوں یا مخصوص راستوں کے کنٹرول تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خلا تک رسائی اور اس پر مجموعی غلبہ حاصل کرنا ایک بنیادی اسٹریٹجک ضرورت بن جائے گا۔
- ڈینگ ژاؤہوئی کا مؤقف: تحقیق کی قیادت کرنے والے ماہر ڈینگ ژاؤہوئی کے مطابق سیسلونر اسپیس کو مستقبل میں حریفوں کے خلاف ایک مؤثر دفاعی رکاوٹ (باریر) کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ اہم تحقیق چین کے شہر ژیاں میں واقع نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنیکل یونیورسٹی کی ایک ماہر ٹیم نے انجام دی ہے۔




