ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ہائی جیک کرنے کی کوشش؛ معاون پائلٹ ہمام الحمامی کا تاریک ماضی بے نقاب! 🌐🛑

اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ہائی جیک کرنے کی کوشش؛ معاون پائلٹ ہمام الحمامی کا تاریک ماضی بے نقاب! 🌐🛑
Spread the love

تاریخ / مقام: دبئی / ریاض

بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کو مبینہ طور پر تباہ کرنے اور ہائی جیک کرنے کی کوشش کرنے والے 29 سالہ معاون پائلٹ کی شناخت ہمام الحمامی (Homam Al-Hamami) کے نام سے ہوئی ہے۔ اس ہولناک واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر ایوی ایشن سیکیورٹی اور پائلٹس کے بیک گراؤنڈ چیک کے حوالے سے شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

30 ستمبر کا واقعہ اور ہنگامی لینڈنگ

گزشتہ 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے دوران معاون پائلٹ ہمام الحمامی نے اچانک کپتان پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ اس وقت طیارے میں 174 مسافر سوار تھے جن میں اکثریت اسرائیلی شہریوں کی تھی۔ حملے کے نتیجے میں طیارہ اچانک تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے آ گیا اور اسے شدید ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ زخمی کپتان نے شدید مزاحمت کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد مسافروں نے دیگر پائلٹس کی مدد سے ملزم ہمام الحمامی کو قابو کر کے باندھ دیا۔ طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتار لیا گیا، جہاں ملزم کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ بعد ازاں سعودی تفتیش کے بعد اسے متحدہ عرب امارات منتقل کر دیا گیا جہاں اماراتی، امریکی اور اسرائیلی تفتیش کار اس سے مسلسل پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ زیرِ حراست معاون پائلٹ نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ اس کا اصل ارادہ طیارے کو اسرائیل میں گرانے کا تھا، تاہم اس دعوے کی مکمل سرکاری تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔

ہمام الحمامی کون ہے؟ خاندانی پس منظر اور تعلیم

29 سالہ ہمام الحمامی متحدہ عرب امارات میں پیدا ہوا۔ اس کے والد کا تعلق عمان جبکہ والدہ کا تعلق شام سے ہے، اور وہ اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ متحدہ عرب امارات میں گزارنے کے ساتھ کچھ عرصہ شام میں بھی مقیم رہا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شام میں قیام کے دوران اس کے نظریات میں شدت پسندی کا رجحان پیدا ہوا، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ تعلیم کے حوالے سے الحمامی نے برطانیہ کی ’Buckinghamshire New University‘ سے ایوی ایشن مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ اس نے وہاں پائلٹ کی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی تھی بلکہ تین سالہ فاصلاتی تعلیمی پروگرام مکمل کر کے 2023 میں ڈگری حاصل کی تھی۔

پیشہ ورانہ سفر اور انتہاپسندی کے خدشات

اس کے حذف شدہ سوشل میڈیا اور پروفیشنل اکاؤنٹس کے مطابق الحمامی نے تقریباً سات سال ’عمان ایئر‘ میں کام کیا اور اس کی ملازمت فروری 2025 تک جاری رہی۔ اس کے بعد جون 2025 میں اس نے مراکش کی قومی ایئرلائن میں شمولیت اختیار کی اور جنوری 2026 میں وہاں سے علیحدہ ہو گیا۔ بعد ازاں وہ فلائی دبئی سے منسلک ہوا اور اس واقعے سے قبل تقریباً آٹھ ماہ تک وہاں خدمات انجام دیتا رہا۔ امریکی اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق عمان ایئر میں کام کے دوران 2024 میں مبینہ طور پر اس کے پاس انتہاپسندانہ مواد پایا گیا تھا، جس کے بعد اسے پرواز کی تربیت سے ہٹا کر انتظامی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پر پرواز کرنے کی پابندی عائد کی گئی تھی، البتہ عمانی حکومت یا ایئرلائن کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ اس کے حذف شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی اسرائیلی طیاروں کی ویڈیوز اور انتہا پسندانہ مواد برآمد ہوا ہے جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

G24 News Online بین الاقوامی امور، سیکیورٹی صورتحال اور دنیا بھر کی تمام اہم خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *