ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

راولپنڈی: حنا جاوید قتل کیس کی ڈی این اے رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات؛ مقتولہ سے زیادتی کی تصدیق! 🚨🏢

راولپنڈی: حنا جاوید قتل کیس کی ڈی این اے رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات؛ مقتولہ سے زیادتی کی تصدیق! 🚨🏢
Spread the love

تاریخ / مقام: راولپنڈی / اسلام آباد

کرائم و ججسٹس ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

راولپنڈی میں گزشتہ دنوں پیش آنے والے پراسرار اور اندوہناک حنا جاوید قتل کیس کی فارنزک اور ڈی این اے (DNA) رپورٹ کی سمری سامنے آ گئی ہے، جس میں ہولناک اور سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں۔ فارنزک رپورٹ نے مقدمے کی تفتیش کو ایک نیا اور انتہائی حساس رخ دے دیا ہے۔

ڈی این اے رپورٹ اور غیر فطری زیادتی کے ثبوت

پولیس ذرائع سے ملنے والی تفصیلی اطلاع کے مطابق، فارنزک معائنے کے دوران مقتولہ حنا جاوید کے جسم سے مردانہ تولیدی جرثومے حاصل ہوئے تھے، جو لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد گرفتار مرکزی ملزم ذیشان ارشد (گھریلو ملازم) سے مکمل طور پر میچ کر گئے ہیں۔

پولیس ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مقتولہ حنا جاوید کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد یا بے ہوشی کی حالت میں غیر فطری جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اور ملزم ذیشان کے نمونے اس جرم کا واضح قانونی و سائنسی ثبوت ہیں۔

تینوں نامزد ملزمان کے نمونوں کا موازنہ

مقدمے کی تفتیش کے دوران پولیس نے 3 نامزد ملزمان کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا تھا، جن میں مقتولہ کا شوہر فیصل اصغر، گھریلو ملازم ذیشان ارشد اور سسر فیصل اصغر (سینئر) شامل تھے:

  • مقتولہ کے ناخن اور جلاوطنی کے نشانات: مقتولہ حنا جاوید کے ناخنوں اور جسم سے گھریلو ملازم ذیشان ارشد کا ڈی این اے اور فنگر پرنٹس میچ کر گئے ہیں، جو قتل کے وقت شدید مزاحمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
  • شوہر کے ڈی این اے کا میچ: رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے شوہر کا ڈی این اے مقتولہ کے جسم اور کپڑوں کی 4 مختلف جگہوں سے میچ ہوا ہے۔
  • قتل میں استعمال شدہ چادر: حنا جاوید کے قتل کے وقت استعمال کی جانے والی چادر سے سسر کے فنگر پرنٹس برآمد ہوئے ہیں۔

تفتیش پر سوالات اور جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ

ڈی این اے رپورٹ میں اتنے واضح اور سائنسی شواہد سامنے آنے کے باوجود راولپنڈی پولیس اب تک حتمی طور پر یہ معلوم کرنے میں ناکام رہی ہے کہ حنا جاوید کو بذاتِ خود کس نے اور کس کے ایما پر قتل کیا۔

دوسری جانب، مقتولہ حنا جاوید کے اہل خانہ نے پہلے دن سے پولیس تفتیش پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کی روایتی سستی کے باعث کیس کو خراب کیا جا رہا ہے، لہٰذا اس ہائی پروفائل کیس کی شفاف اور بلا تعصب تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔

G24 News Online کرائم ڈیسک، عدالت، پولیس تفتیش اور تمام اہم قومی بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *