تاریخ / مقام: اسلام آباد
تجارتی و معاشی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ریجنل ڈائریکٹر جہاد ازور نے ٹیکس قوانین پر عمل درآمد بہتر بنانے اور کاروبار کو وسعت دینے کے لیے ایک زیادہ منصفانہ اور غیر جانبدار ٹیکس نظام قائم کرنے پر زور دیا ہے۔ تاہم، دو روزہ ٹیکس کانفرنس کے پہلے روز ان کا افتتاحی خطاب زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے ابتدائی دو برسوں کے دوران ٹیکس نظام مزید غیر منصفانہ ہو چکا ہے جہاں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا پہاڑ جیسا بوجھ لاد دیا گیا ہے جبکہ پرچون فروشوں، زراعت اور رئیل اسٹیٹ کے بااثر شعبے بڑی حد تک ٹیکسوں سے مستثنیٰ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کی ترجیحات اور زمینی حقائق کا تضاد
اسلام آباد میں منعقدہ ٹیکس ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے جہاد ازور کا کہنا تھا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، محصولات وصول کرنے کے نظام کو مضبوط بنانا، ٹیکس مراعات اور چھوٹ میں کمی کرنا، ترجیحی اخراجات کا تحفظ اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانا پاکستان کی اولین ترجیحات ہونی چاہئیں۔
تاہم، حقائق اس کے برعکس ہیں کیونکہ آئی ایم ایف پروگرام شروع ہونے سے قبل جہاں تنخواہ دار طبقے کی سالانہ ٹیکس ادائیگیاں 391 ارب روپے تھیں، وہیں پروگرام کے دو مالی سالوں کے اندر اندر جون 2026ء تک یہ بوجھ خطرناک حد تک بڑھ کر 629 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اس کے برعکس پرچون فروشی، زراعت اور رئیل اسٹیٹ جیسے بااثر شعبوں کی ٹیکس ادائیگیاں نہایت کم رہیں۔ یہاں تک کہ رواں سال جون میں آئی ایم ایف انتظامیہ نے خود رئیل اسٹیٹ کے شعبے کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحیں کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
زرعی ٹیکس کے ہدف میں ناکامی کے اعداد و شمار
رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کے اہداف بری طرح ناکام رہے:
- سندھ حکومت: گزشتہ مالی سال زرعی ٹیکس وصولی کا ہدف 2 ارب روپے مقرر تھا، تاہم سندھ حکومت صرف 1 ارب 10 کروڑ روپے جمع کرنے میں کامیاب ہو سکی۔
- پنجاب حکومت: پنجاب حکومت کے بجٹ دستاویزات کے مطابق، 10 ارب 50 کروڑ روپے کے ہدف کے مقابلے میں وصولی صرف 4 ارب روپے رہی۔
معاشی استحکام اور آئندہ کا لائحہ عمل
اپنے خطاب میں جہاد ازور کا کہنا تھا کہ مختلف بحرانوں اور معاشی غیر یقینی صورت حال کے باوجود پاکستان نے معاشی استحکام بحال کرنے، اعتماد کی فضا دوبارہ قائم کرنے اور بیرونی مالیاتی تحفظات مضبوط بنانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ اب اگلا اہم مرحلہ اس استحکام کو زیادہ مضبوط اور پائیدار معاشی نمو میں تبدیل کرنا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے دعوے
ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیکس پالیسی کو محض مالیاتی اہداف پورے کرنے کے بجائے معاشی سرگرمیوں اور قدر میں اضافے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ:
- مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔
- مسلسل تین سالوں سے بنیادی بجٹ سرپلس (Primary Surplus) حاصل کیا گیا ہے۔
- محصولات میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح 8.8 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہو گئی ہے۔
G24 News Online معاشی پالیسیوں، ٹیکس ریفارمز، اور تمام اہم تجارتی و مالیاتی بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




