ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

🇮🇷 ایران؛ ممنوعہ اپوزیشن تنظیم کا پرچم لہرانے والے متعدد افراد گرفتار، وائرل ویڈیو پر سیکیورٹی حکام کا فوری ایکشن

🇮🇷 ایران؛ ممنوعہ اپوزیشن تنظیم کا پرچم لہرانے والے متعدد افراد گرفتار، وائرل ویڈیو پر سیکیورٹی حکام کا فوری ایکشن
Spread the love

تہران/انٹرنیشنل ڈیسک: ایرانی حکام نے ملک کے دارالحکومت کے قریب ایک وائرل ہونے والی ویڈیو میں ممنوعہ اپوزیشن تنظیم کا پرچم لہرانے کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں عمل میں آئی ہیں جب ملک اندرونی سکیورٹی اور بیرونی فوجی کشیدگی کے پیش نظر انتہائی حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔

📌 وائرل ویڈیو اور گرفتاریوں کی تفصیلات

  • موٹر سائیکل سواروں کا قافلہ: ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں موٹر سائیکل سوار افراد کو خالی سڑکوں پر سفید اور سرخ رنگ کا پرچم لہراتے دیکھا گیا، جسے کالعدم ’مجاہدین خلق تنظیم‘ (MEK) کا پرچم قرار دیا گیا ہے۔
  • فوری شناخت اور گرفتاری: سرکاری میڈیا کے مطابق حکام نے ویڈیو میں نظر آنے والے تمام افراد کی شناخت کر کے انہیں حراست میں لے لیا ہے۔ اگرچہ حکام کی جانب سے گرفتار افراد کی حتمی تعداد ظاہر نہیں کی گئی، تاہم ان پر ممنوعہ تنظیم سے وابستگی اور ریاست مخالف سرگرمیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
  • مقام کا تعین: ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ موٹر سائیکل قافلہ تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج کے قریب سفر کر رہا تھا، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ویڈیو کس تاریخ کو ریکارڈ کی گئی تھی۔

🛡️ ممنوعہ تنظیم کا پس منظر اور موجودہ سیکیورٹی صورتحال

  • تنظیم کا پس منظر: یہ تنظیم ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے باضابطہ طور پر ممنوع قرار دی گئی ہے۔ یہ گروہ طویل عرصے سے بیرون ملک سے ایرانی حکومت کی تبدیلی کی حمایت کرتا رہا ہے، جبکہ تہران حکومت اس تنظیم پر اسرائیل اور دیگر بیرونی مخالف عناصر کے ساتھ تعاون کرنے کے سنگین الزامات بھی عائد کرتی رہی ہے۔
  • حساس فوجی اور اندرونی حالات: ایرانی حکام کی جانب سے یہ کریک ڈاؤن ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران پہلے ہی امریکا اور اسرائیل کے ساتھ شدید فوجی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے، اور ملک کی اندرونی سکیورٹی حکومت کے لیے ایک انتہائی اہم اور حساس معاملہ بنی ہوئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *