ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

🚀 ایران کا متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ؛ جزیرہ لارک پر ہلاکتوں کا بدلہ لینے کا اعلان

🚀 ایران کا متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ؛ جزیرہ لارک پر ہلاکتوں کا بدلہ لینے کا اعلان
Spread the love

تہران/بین الاقوامی ڈیسک: ایران نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں واقع المنہاد ایئر بیس پر ڈرون حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس کارروائی میں اس مقام کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں امریکی فوجی اہلکار اور عسکری ہیلی کاپٹرز تعینات ہیں۔

📌 ایرانی دعویٰ اور رائٹرز کی رپورٹس

  • المنہاد ایئر بیس کو نشانہ بنانا: ایرانی سرکاری ٹی وی اور عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ یو اے ای میں موجود المنہاد ایئر بیس پر ڈرون کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے۔
  • نقصان کی تفصیلات: فوری طور پر اس کارروائی کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی جانی یا مالی نقصان کی مصدقہ تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں، اور آزاد ذرائع سے حملے کے اثرات کی فوری تصدیق باقی ہے۔

🎯 حملے کی وجہ: جزیرہ لارک پر کارروائی کا ردعمل

  • انتقامی کارروائی: ایرانی فوج کا مؤقف ہے کہ یہ حملہ حال ہی میں “جزیرہ لارک” پر پاسداران انقلاب کے اہلکاروں اور ایرانی شہریوں کی ہلاکت کے جواب میں کیا گیا ہے۔
  • تہران کا دوٹوک کہنا ہے کہ المنہاد ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا اسی جارحیت کا براہ راست ردعمل ہے، کیونکہ وہ اپنی سرزمین اور شہریوں پر ہونے والی کارروائیوں کا جواب دینے کا بھرپور حق محفوظ رکھتے ہیں۔

⚠️ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی فوجی موجودگی

  • اسٹریٹجک اہمیت: متحدہ عرب امارات میں واقع المنہاد ایئر بیس خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں اور لاجسٹکس کے حوالے سے انتہائی اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔ اس حملے کے دعوے کے بعد یو اے ای سمیت پورے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس ہو گئی ہے۔
  • آبنائے ہرمز کا پس منظر: یہ سنگین واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے میں فوجی سرگرمیوں اور اقتصادی پابندیوں کے باعث کشیدگی پہلے ہی اپنے عروج پر ہے۔ دوسری جانب، امریکا خطے میں اپنی افواج اور اہم دفاعی تنصیبات کے تحفظ کے لیے مسلسل حفاظتی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *