تاریخ / مقام: تہران / دبئی / لندن
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
مشرقِ وسطیٰ میں سمندری تجارت کے حوالے سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک مبینہ غیر مجاز راستے سے گزرنے والے ایل پی جی بردار بحری جہاز کو کامیاب نشانہ بنایا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ اور جہاز پر حملہ
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ نشانہ بننے والے بحری جہاز کا نام ’این وی سن شائن‘ (NV Sunshine) ہے جو ’نات‘ نامی ویتنامی کمپنی کی ملکیت ہے۔ ایرانی بیان کے مطابق یہ جہاز آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایسے راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا جسے تہران کی جانب سے غیر مجاز قرار دیا گیا ہے۔
حملے کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم اور نظامِ حرکت (پروپلشن سسٹم) میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی، جس کی وجہ سے ایل پی جی بردار جہاز مزید سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کا انتظام اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہے اور خطے میں مخالف فوجوں کی موجودگی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ ایران نے امریکا پر بحری تجارت میں کشیدگی بڑھانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
برطانوی میری ٹائم ایجنسی کی رپورٹ اور یو اے ای کے قریب واقعہ
دوسری جانب، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق متحدہ عرب امارات کے علاقے الجزیرہ سے تقریباً 13 سمندری میل مغرب میں ایک بحری جہاز کو نامعلوم ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی تھی جسے بعد میں بجھا دیا گیا، تاہم عملے کی سلامتی اور جہاز کو پہنچنے والے نقصانات کی حتمی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔
سمندری امور سے متعلق معروف ویب سائٹ ’سی ٹریڈ میری ٹائم‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ اس واقعے میں پاناما کے پرچم تلے چلنے والا خام تیل بردار جہاز ’جیم نمبر 2‘ بھی زیرِ بحث آیا ہے۔ تاہم، اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یو اے ای کے قریب پیش آنے والا یہ واقعہ اور ایران کے بیان میں مذکور ایل پی جی بردار جہاز پر حملہ ایک ہی واقعہ ہے یا یہ دو الگ الگ واقعات ہیں۔
G24 News Online بین الاقوامی سمندری تجارت، سیکیورٹی صورتحال اور تمام اہم عالمی خبریں غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




