تاریخ / مقام: تہران — ایران
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی لائن کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز سے متعلق ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایران اور عمان نے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے مخصوص محفوظ بحری راستوں کے جغرافیائی نقاط (कोऑर्डिनेट्स) پر اتفاق کر لیا ہے۔
جغرافیائی کوآرڈینیٹس اور بین الاقوامی بحری ادارے سے رابطہ
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے بحری جہازوں کے لیے مقررہ محفوظ راستوں کے جغرافیائی کوآرڈینیٹس طے کر لیے ہیں۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق ایران اور عمان اس امر پر بھی متفق ہوگئے ہیں کہ ان مخصوص راستوں کے جغرافیائی نقاط متعلقہ بین الاقوامی بحری ادارے تک کس طریقے سے اور کن ذرائع سے پہنچائے جائیں گے۔
مرحلہ وار فریم ورک اور عارضی بحری راہداری
یہ اہم پیش رفت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو بتدریج بحال کرنے کے لیے تہران اور مسقط کے درمیان طے پانے والے مرحلہ وار فریم ورک کا بنیادی حصہ ہے۔ دونوںممالک نے اس سے قبل اگست میں ایک عارضی بحری راہداری قائم کرنے، سمندری بارودی سرنگیں صاف کرنے اور مستقبل میں ایک مستقل بحری راستہ بنانے کے حوالے سے بھی اتفاق کیا تھا۔ اس منصوبے میں بحری ٹریفک کے مؤثر انتظام اور متعلقہ سکیورٹی معلومات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کے طریقہ کار پر بھی بھرپور کام شامل ہے۔
محدود پیش رفت اور علاقائی حالات سے مشروط بحالی
تاہم، سفارتی و دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان محفوظ راستوں کے کوآرڈینیٹس پر اتفاق کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے یا تجارتی بحری جہازوں کو فی الحال غیر مشروط اور مکمل محفوظ گزرنے کی ضمانت حاصل ہو گئی ہے۔
ایران اس سے قبل بھی یہ مؤقف واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل اور دائم بحالی کا انحصار وسیع تر علاقائی حالات پر ہوگا۔ ایرانی حکام کی جانب سے یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب بعض ایسے راستوں کو مستقل بند کرنے کا منصوبہ زیرِ غور ہے جنہیں تہران ’’غیر قانونی راستے‘‘ قرار دیتا ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی نہایت حساس اور اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل اور توانائی کی سپلائی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔
G24 News Online بین الاقوامی سفارت کاری، بحری امور اور تمام اہم عالمی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




