تاریخ / مقام: تہران / اسلام آباد
انٹرنیشنل و مڈل ایسٹ ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثر انداز ہونے والے سٹریٹیجک معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کی حامل بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنی پیش کردہ تجویز پر امریکہ کے موصول ہونے والے جواب کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔
تہران حکام کے مطابق اس جائزاتی عمل کی تکمیل کے بعد تہران کا باضابطہ اور حتمی ردِعمل ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کے ذریعے واشنگٹن پہنچایا جائے گا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کی پریس کانفرنس
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز (Reuters) کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دارالحکومت تہران میں ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران امریکی پیش رفت کی تصدیق کی۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ:
- تہران کو واشنگٹن کا موقف اور جواب موصول ہو چکا ہے، جس پر اعلیٰ سطح پر غور و خوص اور جائزہ جاری ہے۔
- جیسے ہی یہ تفصیلی جائزہ مکمل ہوگا، ایران اپنا قانونی و سفارتی جواب ثالثوں کے ذریعے امریکہ تک منتقل کر دے گا۔
- ایران اور امریکہ سمیت متعلقہ فریقین کے درمیان ثالثوں کے ذریعے بیک چینل اور بالواسطہ پیغامات کا تبادلہ بدستور جاری ہے، تاہم انہوں نے ان سفارتی خط و کتابت کی باریک تفصیلات اور شرائط بتانے سے فی الحال گریز کیا۔
آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت
ایرانی ترجمان کے اس محتاط بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس اور عالمی تجارتی روٹ کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر پردے کے پیچھے سفارتی اور ثالثی رابطے تاحال بحال اور فعال ہیں۔
سفارتی اور معاشی ماہرین کے مطابق، آبنائے ہرمز عالمی سطح پر خام تیل اور ایل این جی (LNG) کی سمندری ترسیل کی سب سے بڑی اور اہم ترین شاہراہ ہے۔ اس ستراتیژیک گزرگاہ کی مکمل بحالی یا بندش سے متعلق کوئی بھی حتمی پیش رفت عالمی توانائی کی قیمتوں، سپلائی چین اور خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر براہِ راست اثر انداز ہوگی۔
G24 News Online مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی پیش رفت، تیل کی ترسیل کے بحران اور تمام بین الاقوامی بریکنگ اپ ڈیٹس غير جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




