تہران/بین الاقوامی ڈیسک: ایران کی قیادت نے امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری تنازع اور جنگ کے نتیجے میں ہونے والے معاشی نقصانات اور ملک کو درپیش مشکلات کا برملا اعتراف کیا ہے، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ تمام تر دباؤ کے باوجود آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا اور اندرونی بحران سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کرے گا.
📌 آبنائے ہرمز کی اہمیت اور ایرانی قیادت کی ہدایات
- سپریم لیڈر کی ہدایات: رائٹرز کے مطابق ایران کے اعلیٰ ترین حلقوں اور سپریم لیڈر نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی مشکلات اور عوامی پریشانیوں سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔
- اسٹریٹجک گزرگاہ: آبنائے ہرمز خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایران کے لیے یہ آبنائے عالمی توانائی کی منڈیوں اور خطے میں اثر و رسوخ قائم رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ مانی جاتی ہے.
📉 بیرونی تجارت میں کمی اور حکومتی ترجیحات
- تجارت میں ایک تہائی کمی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تسلیم کیا ہے کہ سخت امریکی پابندیوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ملک کی بیرونی تجارت میں تقریباً ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے.
- معاشی بحالی کا پلان: تہران کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے مذاکرات کے دروازے بھی کھلے رکھے گا۔ حکومت کی نئی ترجیحات میں مہنگائی پر قابو پانا، مارکیٹ کو مستحکم کرنا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا، ملکی صنعت میں سرمایہ کاری بڑھانا اور معیشت کا انحصار بتدریج امریکی ڈالر پر کم کرنا شامل ہے۔
🇺🇸 امریکی انتظامیہ کی جانب سے ’اکنامک ڈی ڈے‘ (Economic D-Day) کا اعلان
- مذاکرات میں تعطل: رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ کے آغاز کے چھ ماہ گزر جانے کے باوجود تاحال سفارتی مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی اور فریقین کے درمیان خلیج برقرار ہے.
- نئی مالیاتی پابندیاں: دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران پر مالی دباؤ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اپنی اس وسیع تر معاشی مہم کو “Economic D-Day” کا نام دیا ہے، جس کا مقصد تہران کو مزید معاشی تنهایی اور دباؤ میں لانا ہے.




