تاریخ / مقام: تہران / واشنگٹن / دوحہ
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
مشرق وسطیٰ میں تنازعے کے بادل مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایران نے دوٹوک الفاظ میں وارننگ دی ہے کہ اگر ملک کی قومی سکیورٹی اور تیل کی برآمدات کو یقینی نہیں بنایا گیا تو خطے کا کوئی بھی انفرااسٹرکچر محفوظ نہیں رہے گا۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کی بحالی کے لیے قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
قالیباف کا سخت انتباہ اور تیل کی فروخت کا معاملہ
ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو بیان میں نمایاں ایرانی رہنما قالیباف نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران کو اپنے تیل کی عالمی منڈیوں میں فروخت کی اجازت نہیں دی جاتی تو خطے کے کسی دوسرے ملک کو بھی تیل برآمد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر تہران کی سکیورٹی کو یقینی نہیں بنایا گیا تو خطے کا کوئی بھی توانائی اور تنصیبات کا انفرااسٹرکچر محفوظ نہیں رہ سکتا۔ قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اہم بحری گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ کے ذریعے تیل کی ترسیل اور اس کی بحالی ایران اور امریکا کے مابین جاری کشیدہ تنازع کا سب سے اہم اور حساس معاملہ بنی ہوئی ہے۔
عباس عراقچی کے بیانات اور قطری ثالثی
ادھر، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ تہران کی بعض مخصوص شرائط کی تکمیل سے مشروط ہے، اور اس وقت ایران کی جانب سے امریکی جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ سفارتی رپورٹس کے مطابق قطر اس تنازع میں فعال ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان تجاویز کے تبادلے میں اہم پل کا کردار نبھا رہا ہے۔ عراقچی کے مطابق تہران اور قطری ثالثوں کے درمیان ان شرائط پر تفصیلی بات چیت ہو چکی ہے جن کے ذریعے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی قابلِ عمل راہ نکالی جا سکتی ہے، جبکہ امریکا کا حتمی جواب قطر کے توسط سے تہران تک پہنچایا جائے گا۔
توانائی کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق خدشات اور سفارتی کوششیں
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قالیباف کی تازہ وارننگ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز، تیل کی برآمدات اور اپنی قومی سلامتی کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے متفقہ معاملات کے طور پر پرکھ رہا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال نے عالمی سطح پر توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور تیل کی سپلائی لائنز سے متعلق شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے، جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ثالثوں کی وساطت سے پسِ پردہ مذاکرات اور سفارتی کوششیں بھی ساتھ ساتھ جاری ہیں۔
G24 News Online بین الاقوامی سفارت کاری، عالمی معیشت اور سیکیورٹی امور سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




