واشنگٹن/بین الاقوامی ڈیسک: ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر کیے جانے والے بیلسٹک میزائل حملوں نے امریکہ کے عسکری حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام (Patriot Air Defense System) کے مہنگے انٹرسیپٹرز کے ذخائر تیزی سے کم ہونے کے سنگین خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
📌 اردن میں میزائلوں کی روک تھام اور ہوشربا دفاعی اخراجات
- بڑے پیمانے پر انٹرسیپٹرز کا استعمال: اوپن سورس انٹیلی جنس (OSINT) کے تخمینوں کے مطابق، ایک ہی رات میں اردن کی فضائی حدود میں ایرانی میزائلوں کو ناکام بنانے کے لیے امریکہ کو بھاری تعداد میں میزائل فائر کرناپڑے؛ جہاں تقریباً 32 ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ہی رات میں 96 سے 128 انٹرسیپٹرز استعمال کیے گئے۔
- لاکھوں ڈالر فی میزائل خرچ: چونکہ ایک پیٹریاٹ انٹرسیپٹر کی اوسط قیمت تقریباً 40 لاکھ ڈالر بتائی جاتی ہے، لہٰذا اس ایک رات کی دفاعی کارروائی کی مجموعی لاگت 38 کروڑ سے 64 کروڑ ڈالر تک جا پہنچی، جو اس دفاعی حکمت عملی کی انتہائی بھاری قیمت کو ظاہر کرتی ہے۔
📉 محدود ذخائر اور دفاعی صنعت کی سست رفتار پیداوار
- باقی ماندہ ذخائر: اوپن سورس رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوجی ذخیرے میں اب تقریباً 900 پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز باقی رہ گئے ہیں (اگرچہ حکام باضابطہ تعداد ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں)۔ اس سے قبل سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) نے بھی اندازہ لگایا تھا کہ جنگ کے دوران شدید استعمال کے بعد امریکی ذخائر ایک ہزار سے کم ہو چکے ہیں۔
- پیداواری چیلنجز: دفاعی صنعت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ان میزائلوں کی انتہائی محدود پیداواری رفتار ہے۔ ایک نئے انٹرسیپٹر کی تیاری میں کئی سال کا عرصہ لگ سکتا ہے، جبکہ پیداواری صلاحیت کو بتدریج بڑھا کر 2030 تک تقریباً 2 ہزار یونٹس سالانہ تک پہنچانے کی توقع کی جا رہی ہے۔
⚠️ واشنگٹن کے لیے اسٹریٹجک اور دفاعی دباؤ
- سخت فیصلوں کا دوراہا: اگر ایران اسی رفتار سے مسلسل بیلسٹک میزائل حملے جاری رکھتا ہے تو واشنگٹن کو انتہائی مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکہ کو ایک طرف مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈوں اور اہلکاروں کے دفاع کے لیے بڑی تعداد میں مہنگے انٹرسیپٹرز استعمال کرنا مجبوری ہے، تو دوسری طرف پیٹریاٹ ذخائر کے خاتمے کا مستقل خطرہ منڈلا رہا ہے۔
- ممکنہ حکمت عملی میں تبدیلی: ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں امریکہ کے لیے ایک ممکنہ راستہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی یا بعض دفاعی ترجیحات میں کمی کرنا بھی ہو سکتا ہے، تاہم یہ فیصلہ امریکی فوجی اسٹریٹجی اور مشرق وسطیٰ میں موجود اتحادیوں کی سلامتی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔




