تاریخ / مقام: اسلام آباد
قومی و کرائم ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے انسانیت سوز جرم کا فیصلہ سناتے ہوئے سوتیلی بیٹی سے زیادتی کرنے والے سفاک شخص کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم دے دیا ہے جبکہ متاثرہ فیملی کو مالی ہرجانہ اور بچے کی کفالت کی ادائیگی کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد سہیل نے مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے مجرم افتخار کو جرم ثابت ہونے پر پھانسی کی سزا سنائی اور ساتھ ہی 5 لاکھ روپے جرمانہ سرکاری خزانے میں جمع کروانے کا حکم جاری کیا۔ عدالت نے متاثرہ لڑکی کو بطور ہرجانہ 10 لاکھ روپے کی رقم ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
بچے کی کفالت اور ہولناک تفصیلات
عدالتی فیصلے کے مطابق، اس قبیح فعل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معصوم بچے کی پرورش اور کفالت کے لیے مجرم کو 20 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ فیصلے میں انکشاف کیا گیا کہ مجرم افتخار اپنی گھناؤنی ہوس کا نشانہ بناتے ہوئے اپنی ہی سوتیلی بیٹی کو والدہ کی غیر موجودگی میں مسلسل ایک سال تک زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔
ڈی این اے ٹیسٹ اور سائنسی شواہد
عدالتی کارروائی کے دوران پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) کے ڈی این اے ٹیسٹ نے اس کیس میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ فرانزک رپورٹ میں تصدیق ہوئی کہ زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے مجرم افتخار کے ساتھ سو فیصد میچ کر گیا ہے، جس سے مجرم کے خلاف جرم ناقابلِ تردید شواہد کے ساتھ ثابت ہو گیا۔
G24 News Online عدالتی فیصلوں، قانون کی بالادستی، اور تمام اہم قومی بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




