ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

کراچی؛ سرجانی ٹاؤن میں خاتون اور 3 بچوں کے بہیمانہ قتل کا معمہ حل، شوہر کا بہنوئی قاتل نکلا! 🛑⚖️

کراچی؛ سرجانی ٹاؤن میں خاتون اور 3 بچوں کے بہیمانہ قتل کا معمہ حل، شوہر کا بہنوئی قاتل نکلا! 🛑⚖️
Spread the love

تاریخ / مقام: کراچی

بیورو رپورٹ — G24 News Online

تفصیل:

کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے اندوہناک واقعے کا پولیس نے کامیابی سے سراغ لگا لیا ہے، جہاں ماں اور اس کے تین معصوم بچوں کے بہیمانہ قتل میں مقتولہ کے شوہر کا اپنا ہی بہنوئی ملوث نکلا ہے۔ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے پریس کانفرنس کے دوران اس ہولناک واردات کے تمام راز فاش کر دیے ہیں۔

پریس کانفرنس اور ملزم کی گرفتاری

ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے ایس ایس پی ویسٹ طارق الہی مستوئی اور ایس پی انویسٹی گیشن ویسٹ مسرور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مقتولہ کے شوہر دانش کے بہنوئی ہمایوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم نے دورانِ تفتیش چاروں افراد کے قتل کا اعتراف کر لیا ہے، اور اس کی نشاندہی پر آلہ قتل (آہنی راڈ) بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم ہمایوں ڈیڑھ سال قبل دانش کا کرایہ دار تھا اور اسی گھر کی بالائی منزل پر رہتا تھا، جسے بعد میں گھریلو ناچاقی یا تنازع پر دانش نے گھر سے نکال دیا تھا۔

واردات کا خوفناک روزچشم اور تفصیلات

تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ واقعے کے روز ملزم ہمایوں دوپہر تقریباً 2 بجے دانش کے گھر پہنچا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس وقت دانش گھر پر موجود نہیں ہے۔ گھر پہنچ کر ملزم نے چائے پی، اس دوران مقتولہ مہوش نے اسے بازار سے کپڑوں کی سلائی کے لیے بکرم اور بیل لانے کو کہا۔ ملزم بازار گیا اور واپسی پر دو بچے مدرسے جا چکے تھے۔

ملزم نے گھر میں خاتون کو شیرخوار بچی کے ساتھ اکیلا دیکھ کر بدنیتی کی اور زیادتی کی کوشش کی۔ مقتولہ مہوش کی جانب سے شدید مزاحمت کرنے پر ملزم نے غصے میں آ کر ان کے سر پر آہنی راڈ سے پے در پے وار کیے، جس سے وہ زخمی ہو کر دم توڑ گئیں۔ گھر میں موجود شیرخوار بچی اپنی ماں کی حالت دیکھ کر رونے لگی تو سفاک ملزم نے بچی کا سر دیوار سے دے مارا، جس کے نتیجے میں وہ بھی جاں بحق ہو گئی۔

بچوں کی واپسی اور ملزم کا فرار

واردات کے بعد ملزم جب واش روم میں ہاتھ دھو کر نکل رہا تھا تو مدرسے سے دونوں بچے واپس گھر پہنچ گئے۔ بچوں کو دیکھ کر ملزم نے گھبراہٹ میں انہیں بھی آہنی راڈ کے وار کر کے قتل کر ڈالا۔ واردات کے بعد جب ملزم گھر سے باہر نکلا تو ایک پڑوسی نے اسے دیکھا، اور ملزم نے اطمینان سے پڑوسی کو سلام بھی کیا تھا۔ ملزم اپنی موٹر سائیکل گھر پر چھوڑ کر اور اپنا موبائل فون بند کر کے پیدل دانش کے گھر پہنچا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے آلہ قتل راستے میں ایک نالے میں پھینک دیا تھا جسے برآمد کر لیا گیا ہے، جبکہ مقتولہ کا موبائل فون ملزم کے پاس سے نہیں ملا، جس پر پولیس کو شبہ ہے کہ ہجوم میں سے کسی نے اٹھایا ہو گا اور اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

دہشتگردی کی دفعات کی شمولیت

ڈی آئی جی ویسٹ نے واضح کیا کہ ملزم نے انتہائی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت چاروں قتل کیے، اور جائے وقوعہ سے کوئی خاص شواہد نہ ملنے کے باوجود پولیس نے ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے اس تاریک کیس کو ٹریس کیا۔ چونکہ اس واقعے سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا ہے، اس لیے مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات بھی شامل کی جا رہی ہیں۔

G24 News Online جرائم کی دنیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں اور اہم قومی خبروں سے اپنے قارئین کو بروقت باخبر رکھتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *