تاریخ / مقام: اسلام آباد
قومی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والی غیر معمولی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت نے بڑا آئینی و انتظامی قدم اٹھانے کی تیاری کر لی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کل (اتوار) کو وفاقی کابینہ کا اہم ترین اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کی باضابطہ منظوری دی جائے گی۔
کابینہ اجلاس، صدارتی ایڈوائس اور قانونی عمل
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبر پختونخوا میں آئینی بحران اور امن و امان کی بگاڑ سے نمٹنے کے لیے صدرِ مملکت کو بھجوائی جانے والی قانونی ایڈوائس کی منظوری دی جائے گی۔
قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی ایک ہفتہ قبل وزیراعظم کو تحریری طور پر صوبائی صورتحال سے آگاہ کر چکے ہیں۔ گورنر کے پی کی تحریر میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے اور آئینی طور پر ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ ناگزیر ہو گیا ہے۔
کابینہ اجلاس میں سرکولیشن سمری اور صدارتی ایڈوائس کی منظوری کے بعد وزیراعظم اسے فوری طور پر صدرِ مملکت کو ارسال کریں گے۔ صدر مملکت کے دستخط ہوتے ہی کابینہ ڈویژن سے نوٹیفکیشن جاری ہوگا اور صوبے میں ایمرجنسی و گورنر راج کا فوری نفاذ عمل میں آ جائے گا۔
نیا طاقتور چیف سیکریٹری اور بیوروکریسی میں بڑا ردوبدل
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئینی ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے ساتھ ہی خیبر پختونخوا میں وسیع پیمانے پر انتظامی اور بیوروکریٹک تبدیلیاں کی جائیں گی:
- چیف سیکریٹری کی تبدیلی: موجودہ چیف سیکریٹری کے پی کو تبدیل کر کے ایک نیا اور “طاقتور چیف سیکریٹری” تعینات کیا جائے گا تاکہ انتظامی امور کو مضبوطی سے سنبھالا جا سکے۔
- افسران کے تبادلے: صوبے کے تمام اہم انتظامی اور سیکیورٹی عہدوں پر فائرنگ اور پولیس و انتظامیہ کے ڈھانچے کو متحرک کرنے کے لیے نئے افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی ساتھ ہی جاری کیا جائے گا۔
G24 News Online آئینی پیش رفت، کابینہ فیصلوں اور تمام بریکنگ اپ ڈیٹس کو غیر جانبدارانہ انداز میں بروقت اپنے قارئین تک پہنچاتا رہے گا۔




