تحریر و تحقیق۔۔ صالحہ کامران
لاہور کی فضائی آلودگی میں اضافہ، سردیوں میں سموگ کا خطرہلاہور میں فضائی آلودگی ایک بار پھر تشویشناک صورتحال اختیار کر گئی ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق شہر کا AQI 207 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بعض علاقوں میں آلودگی کی سطح اس سے بھی زیادہ رہی۔
آلودگی بڑھ رہی ہے، سموگ کا خطرہ بھی
سردیوں کی آمد کے ساتھ لاہور میں سموگ کا مسئلہ دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔ سموگ دراصل دھند اور فضائی آلودگی کا مرکب ہے۔ گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج، تعمیراتی گرد، کچرے اور فصلوں کی باقیات کا دھواں ہوا میں موجود باریک ذرات اور مختلف گیسوں کی مقدار بڑھاتے ہیں۔
سرد موسم میں ہوا کی رفتار کم ہونے اور ٹمپریچر
اِنورژن جیسے موسمی حالات کے باعث یہ آلودہ ذرات فضا میں پھیلنے کے بجائے زمین کے قریب جمع ہونے لگتے ہیں، جس سے سموگ زیادہ گھنی ہو سکتی ہے۔
PM2.5 سب سے بڑا خطرہ کیوں؟
فضائی آلودگی میں موجود PM2.5 انتہائی باریک ذرات ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں۔ طویل عرصے تک ان کی زیادہ مقدار میں نمائش سانس اور دل کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ بچے، بزرگ اور سانس یا دل کے مریض خاص طور پر احتیاط کریں۔
شہری کیا احتیاط کریں؟
سموگ اور آلودگی کی شدت بڑھنے پر غیر ضروری طور پر باہر رہنے سے گریز کریں، کھلی فضا میں ورزش محدود کریں اور بچوں و بزرگوں کو زیادہ آلودہ ماحول سے دور رکھیں۔ باہر جانا ضروری ہو تو مناسب N95 یا KN95 ماسک استعمال کیا جا سکتا ہے۔
لاہور میں بڑھتا ہوا AQI اس بات کی یاد دہانی ہے کہ آنے والے سرد مہینوں میں سموگ سے بچاؤ کے لیے صرف دھند پر نہیں بلکہ اس کے اصل سبب یعنی فضائی آلودگی اور آلودہ اخراج میں کمی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔




