ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

بلاگ

لاہور میں سولر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کا بڑا منصوبہ تیار، 93 کروڑ 47 لاکھ روپے سے زائد لاگت آئے گی

لاہور میں سولر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کا بڑا منصوبہ تیار، 93 کروڑ 47 لاکھ روپے سے زائد لاگت آئے گی
Spread the love

تحریر و تحقیق۔۔ صالحہ کامران

لاہور: شہر میں بجلی کی بچت اور متبادل توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے سولر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کا بڑا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت لاہور کے علاقے ایل ڈی اے سٹی اور گلبرگ میں 93 کروڑ 47 لاکھ روپے سے زائد کی لاگت سے سولر ایل ای ڈی اسٹریٹ لائٹس نصب کی جائیں گی۔منصوبے کا بنیادی مقصد سڑکوں پر روشنی کے لیے روایتی بجلی پر انحصار کم کرنا اور توانائی کے اخراجات میں کمی لانا ہے۔

منصوبے کے تحت ایل ڈی اے سٹی کے جناح سیکٹر میں دو مختلف پیکیجز کے ذریعے سولر ایل ای ڈی اسٹریٹ لائٹس نصب کی جائیں گی۔
پیکیج فائیو کے لیے 38 کروڑ 84 لاکھ روپے سے زائد جبکہ پیکیج سکس کے لیے 39 کروڑ 66 لاکھ روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔
ایل ڈی اے سٹی میں سولر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کا کام چھ ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

منصوبے میں گلبرگ کے علاقے کو بھی شامل کیا گیا ہے، جہاں تقریباً 14 کروڑ 96 لاکھ روپے کی لاگت سے سولر پاورڈ اسٹریٹ لائٹس نصب کی جائیں گی۔گلبرگ میں تنصیب کا کام دو ماہ میں مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد علاقے میں اسٹریٹ لائٹس کے لیے بجلی کے روایتی نظام پر انحصار کم کرنا اور توانائی کی بچت کو فروغ دینا ہے۔

سولر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب سے سڑکوں پر روشنی کے لیے شمسی توانائی استعمال کی جائے گی، جس سے روایتی بجلی کی کھپت میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔حکام کی جانب سے لاہور میں اسٹریٹ لائٹس کے لیے شمسی توانائی کے استعمال کو مزید وسعت دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کو شہر میں پائیدار ترقی اور توانائی کے بہتر استعمال کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

لاہور میں سولر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کا یہ منصوبہ ایل ڈی اے سٹی اور گلبرگ سے شروع کیا جا رہا ہے۔ مقررہ مدت میں کام مکمل ہونے کے بعد ان علاقوں میں شمسی توانائی سے چلنے والی اسٹریٹ لائٹس کے ذریعے روشنی فراہم کرنے کا نظام قائم کیا جائے گا۔ مستقبل میں اس منصوبے کو شہر کے دیگر علاقوں تک وسعت دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *