ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

کھیل

لاہور ہائیکورٹ کا محمد رضوان کی درخواست پر فیصلہ جاری؛ این سی سی آئی اے کو ہراساں نہ کرنے کی ہدایت! 📋🇵🇰

لاہور ہائیکورٹ کا محمد رضوان کی درخواست پر فیصلہ جاری؛ این سی سی آئی اے کو ہراساں نہ کرنے کی ہدایت! 📋🇵🇰
Spread the love

تاریخ / مقام: لاہور

عدالتی رپورٹر — G24 News Online

تفصیل:

لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے محمد رضوان کی جانب سے دائر درخواست پر 5 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے محمد رضوان کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی انکوائری میں شامل ہونے اور مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ این سی سی آئی اے کو سخت حکم دیا ہے کہ تفتیش کے دوران محمد رضوان کو ہراساں یا کسی بھی غیر ضروری زحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور انکوائری قانون کے دائرے میں رہ کر کی جائے۔

الزامات اور پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی

عدلتی فیصلے کے مطابق این سی سی آئی اے نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انکوائری الیکٹرانک فراڈ کے الزامات سے متعلق ہے۔ سرکاری وکیل کے مطابق یہ معاملہ پیکا ایکٹ 2016 کی دفعہ 14 (ناجائز مالی فائدہ) کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ این سی سی آئی اے کا کہنا تھا کہ سائبر پٹرولنگ کے دوران حاصل ہونے والی معلومات سے محمد رضوان کا اس معاملے سے تعلق سامنے آیا ہے، اس لیے اس ابتدائی مرحلے پر متعلقہ ادارے کو دفعہ 14 کے تحت الزامات کی انکوائری جاری رکھنے کا موقع دینا بالکل مناسب ہے۔

آئی سی سی اینٹی کرپشن کوڈ اور فوجداری قوانین

محمد رضوان کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ معاملہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کو رپورٹ نہیں کیا گیا، جو کہ کرکٹ میں کرپشن کے خلاف کارروائی کا متعلقہ فورم ہے۔ اس پر عدالت نے آئی سی سی اینٹی کرپشن کوڈ کی شق 1.11 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن کوڈ فوجداری قوانین کو قائم یا منسوخ نہیں کرتا، بلکہ یہ کرکٹ سے وابستہ افراد کے لیے ایک پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق ہے۔ فیصلے کے مطابق آئی سی سی کا ضابطہ دیگر قابل اطلاق قوانین کی کارروائی کو متاثر نہیں کرتا اور اس بنیاد پر فوجداری کارروائی سے بچنے کی کوشش نہیں کی جا سکتی۔ آئی سی سی کا اپنا فریم ورک بھی مجاز ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کا تقاضا کرتا ہے، لہذا ڈسپلنری فریم ورک کی موجودگی کسی قانونی انکوائری میں رکاوٹ نہیں۔

کال اپ نوٹس اور عدالتی مداخلت سے گریز

عدالت نے قرار دیا کہ کال اپ نوٹس بذات خود کسی شخص پر جرم کا الزام عائد نہیں کرتا بلکہ یہ انکوائری میں معلومات حاصل کرنے کا ایک ضابطہ کار ہے۔ محمد رضوان 8 ستمبر کو جاری ہونے والے نوٹس کے بعد 10 ستمبر کو این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہو چکے ہیں اور 14 ستمبر کو اپنا تحریری جواب بھی جمع کرا چکے ہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ این سی سی آئی اے کی انکوائری نہ تو دائرہ اختیار سے باہر ہے اور نہ ہی بدنیتی پر مبنی، اور انکوائری مکمل ہونے سے قبل عدالت اس ابتدائی مرحلے پر مداخلت نہیں کر سکتی۔ تاہم، انکوائری کے حتمی نتیجے سے شکایت کی صورت میں محمد رضوان قانون کے مطابق مناسب داد رسی حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ ضبط شدہ اشیاء کی واپسی کے لیے متعلقہ عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

G24 News Online عدالتی فیصلوں، قانون کی بالادستی اور اہم قومی خبروں سے اپنے قارئین کو بروقت باخبر رکھتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *