ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

8 اکتوبر 2005 کا قیامت خیز زلزلہ؛ 21 برس بیت گئے مگر سانحے کا غم آج بھی تازہ! 🕯️🏛️

8 اکتوبر 2005 کا قیامت خیز زلزلہ؛ 21 برس بیت گئے مگر سانحے کا غم آج بھی تازہ! 🕯️🏛️
Spread the love

تاریخ / مقام: مظفرآباد — آزاد کشمیر

قومی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

تاریخ کے بدترین اور تباہ کن زلزلوں میں شمار ہونے والے 8 اکتوبر 2005 کے قیامت خیز سانحے کو 21 برس مکمل ہو چکے ہیں، لیکن اس المیے کے زخم اور اپنوں کو کھونے کا غم آج بھی متاثرہ علاقوں بالخصوص مظفرآباد کے مکینوں کے دلوں میں اتنے ہی تازہ ہیں جے پہلے دن تھے۔ اس المناک دن نے ہنستے بستے شہروں کو چند سیکنڈ میں کھنڈرات میں تبدیل کر دیا تھا، جسے کشمیری عوام کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔

اپنوں کی یادیں اور غم کی داستان

زلزلے میں اپنے پیاروں اور خونی رشتوں کو آنکھوں کے سامنے تڑپتے اور ملبے تلے دبتے دیکھنے والے آج بھی اس ہولناک گھڑی کو یاد کرکے آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔ ہزاروں معصوم جانوں کے نذرانے اور اربوں روپے کے انفراسٹرکچر کی تباہی کے اس سانحے کی برسی پر شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جبکہ شہداء کی یادگاروں پر پھول بھی چڑھائے جا رہے ہیں۔

پاک فوج کا تاریخی اور لازوال کردار

اس قیامت خیز گھڑی میں جب ہر طرف چیخ پکار اور بے بسی کا عالم تھا، پاک فوج کے جوانوں نے فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر ریسکیو، ریلیف اور بحالی کا جو تاریخ ساز کام سر انجام دیا، وہ آج بھی سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کے غیور شہریوں کا کہنا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاک فوج کے جوانوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر دن رات ایک کر کے ملبے تلے دبے ہزاروں افراد کو زندہ یا مردہ باہر نکالا اور متاثرین تک امداد پہنچائی۔

مقامی شہریوں نے جذبہ تشکر کے ساتھ کہا کہ 8 اکتوبر 2005 کو پاک فوج نے جس بے مثال جذبے اور عزم کے ساتھ قوم کی خدمت کی، اسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ پاک فوج نے اس موقع پر ایک بار پھر یہ ثابت کر کے دکھایا کہ کشمیر واقعی پاکستان کی شہ رگ ہے اور مشکل کی ہر گھڑی میں افواجِ پاکستان اپنے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہیں۔

G24 News Online تاریخ کے ان اہم ابواب، شہداء کی قربانیوں اور تمام قومی خبروں کو اپنے قارئین تک پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھے گا تاکہ آنے والی نسلیں ان قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *