تاریخ / مقام: جنیوا / اسلام آباد
قومی / سفارتی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) کے اجلاس کے دوران محفوظ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے انسانی حق سے متعلق ایک اہم قرارداد اتفاقِ رائے سے منظور کر لی گئی ہے۔ اس قرارداد کی منظوری کو پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، بالخصوص پانی کے سرحد پار تعاون کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف دنیا بھر میں تسلیم کر لیا گیا ہے۔
قرارداد کی تفصیلات اور بھارت کی ناکام کوشش
یہ قرارداد جرمنی اور اسپین کی مشترکہ جانب سے پیش کی گئی تھی۔ اس اہم سفارتی معرکے میں پاکستان نے سرحد پار آبی تعاون کو قرارداد کے حتمی متن میں برقرار رکھنے کے لیے انتہائی فعال اور بھرپور کردار ادا کیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، بھارت کی جانب سے پوری کوشش کی گئی کہ قرارداد کے متن سے سرحد پار آبی تعاون (Transboundary Water Cooperation) کا حوالہ خارج کر دیا جائے، تاہم پاکستان کی موثر سفارتی حکمت عملی کے باعث بھارتی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہوگئیں۔
انسانی حقوق کونسل کے 47 رکن ممالک نے اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ تاریخ میں پہلی بار اس قرارداد کے ذریعے اس بات کو واضح طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ سرحد پار آبی تعاون کا براہِ راست تعلق محفوظ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے بنیادی انسانی حقوق کے حصول سے ہے۔
فرسٹ سیکرٹری عدیل کھوکھر کا دوٹوک مؤقف
قرارداد کی منظوری کے موقع پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری عدیل کھوکھر نے مدلل اور جاندار خطاب کیا۔ انہوں نے مشترکہ آبی وسائل کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف کو اجاگر کرتے ہوئے کہا:
- جہاں پانی مشترکہ ہو، وہاں ذمہ داریاں بھی مشترکہ ہوتی ہیں۔
- مشترکہ پانیوں پر تعاون ہمسایہ ممالک کے درمیان کسی احسان یا رعایت کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک باہمی اور بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی کہ کوئی بھی بالائی دریا کا ملک (Upper Riparian State) پانی کو سیاسی دباؤ، بلیک میلنگ یا اثر و رسوخ کے آلے کے طور پر ہرگز استعمال نہیں کر سکتا۔ پانی کو سیاسی مفادات کے بجائے باہمی تعاون، انصاف اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں کے تحت استعمال کیا جانا چاہیے۔
G24 News Online بین الاقوامی سفارت کاری، قومی مفادات اور تمام اہم ملکی و غیر ملکی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




