تاریخ / مقام: اسلام آباد
قومی امور ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس پلوشہ خان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں سرکاری افسران کا حساس ڈیٹا بیرون ملک فروخت کیے جانے، سوشل میڈیا پر نامناسب مواد، کال سینٹرز کے ذریعے 172 ارب روپے کے مبینہ فراڈ اور جعلی سمز کے ذریعے مالی دھوکہ دہی کے سنگین معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اعلیٰ افسران اور بیوروکریسی کا ڈیٹا بیرون ملک فروخت
اجلاس کے دوران ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے (NCCIA) نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں راولپنڈی میں ایک ایسا گینگ دھر لیا گیا ہے جو پیسوں کے عوض اعلیٰ افسران، بیوروکریسی اور اہم قومی اداروں کی شخصیات کا حساس ڈیٹا ملک و بیرون ملک فروخت کر رہا تھا۔ اس معاملے پر کمیٹی نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سوشل میڈیا قوانین اور ٹک ٹاک پر توہینِ آمیز مواد کا تذکرہ
اجلاس میں سینیٹر افنان اللہ نے مؤقف اپنایا کہ بلاسفیمی سے متعلق شواہد سامنے آئے ہیں اور ٹک ٹاک لائیو پر انتہائی نامناسب اور خطرناک حرکات کے ساتھ توہینِ اسلام کے حوالے سے مواد بنایا جا رہا ہے۔ اس پر ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے بتایا کہ ادارہ اس حوالے سے پی ٹی اے کو تحریری درخواستیں بھیجتا ہے۔ چیئرمین پی ٹی اے نے آگاہ کیا کہ پاکستان میں ٹک ٹاک لائیو پر سرکاری طور پر پابندی عائد ہے، تاہم وی پی این (VPN) کے استعمال سے اس کی روک تھام میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ مزید برآں، بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کی عمر کی حد مقرر کرنے کے لیے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے ملاقات کی گئی ہے جبکہ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر سوشل میڈیا سے متعلق 500 شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ کمیٹی ارکان نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے انٹرنیٹ پر مزید سختی برتنے پر زور دیا۔
سرکاری افسران کے لیے سپر ایپ اور 172 ارب روپے کا کال سینٹر فراڈ
قائمہ کمیٹی نے سرکاری افسران کے لیے ایک محفوظ اور الگ میسجنگ ‘سپر ایپ’ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے پی ٹی اے کو اس پر فوری کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔ دوسری جانب ایف آئی اے حکام نے کال سینٹرز کے ذریعے مبینہ طور پر 172 ارب روپے کے فراڈ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کمپنیوں کی ایس ای سی پی (SECP) میں رجسٹریشن کرا کر یہ فراڈ کیا گیا جس میں چینی اور پاکستانی دونوں عناصر شامل ہیں۔ فراڈ کی یہ رقم کریپٹو کرنسی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کی جا رہی تھی۔ حکام نے بتایا کہ ان غیر قانونی کال سینٹرز میں چینی، ویتنامی، میانماری اور دیگر ممالک کے شہری ملوث ہیں جو بنیادی طور پر غیر ملکیوں کے ساتھ ہی فراڈ کرتے ہیں، جبکہ پاکستانی ان میں بطور ملازم کام کرتے ہیں۔ بعض کال سینٹرز سے ریکوری کر کے متاثرین کو رقم واپس بھی کی گئی ہے۔
جعلی سمز کا استعمال اور ٹیرف کے معاملات
حکام نے مزید بتایا کہ مقامی سطح کے مالی فراڈ میں جعلی سمز کا استعمال کیا جا رہا ہے، اور جب ان سمز کے اصل مالکان کو تلاش کیا جاتا ہے تو کوئی بزرگ خاتون نکلتی ہے جسے اس کا علم تک نہیں ہوتا۔ جعلی سمز کے خاتمے کے لیے ‘کولنگ پیریڈ’ نافذ کیا گیا ہے، تاہم وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے نشاندہی کی کہ اس سے ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز متاثر ہو رہی ہیں۔ اجلاس میں جاز کی جانب سے صارفین سے اضافی چارجز وصولی کے معاملے پر بھی بحث ہوئی جہاں چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیلی کام ٹیرف خطے میں سب سے کم ہے اور پی ٹی اے ہر پیکج کو باریک بینی سے ریگولیٹ کرتا ہے۔ وزیر آئی ٹی نے کہا کہ اگر کمپٹیشن کمیشن ٹیرف کا فیصلہ کرے گا تو پی ٹی اے کا کنٹرول کم ہو جائے گا، جبکہ جاز کی اوور چارجنگ کے معاملے کی تحقیقات کے لیے سینیٹر افنان اللہ کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
G24 News Online سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل پالیسیوں اور قومی اہمیت کے حامل تمام امور سے اپنے قارئین کو بروقت باخبر رکھتا رہے گا۔




