تاریخ / مقام: اسلام آباد / کراچی
معاشی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں معیشت کو سہارا دینے اور کاروباری طبقے کو فروغ دینے کے لیے 2300 ارب روپے کے بڑے ٹیکس بریک دیے ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ نجی شعبہ (Private Sector) ملکی معاشی ترقی کی بھرپور قیادت سنبھالے۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منعقدہ ایک تقریب سے بذریعہ زوم خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے وزیرِ خزانہ، ان کی معاشی ٹیم، تمام متعلقہ وزرا اور اداروں کے سربراہان کو شاندار کارکردگی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز نے مثالی ٹیم ورک کا مظاہرہ کیا ہے۔
عالمی سطح پر معاشی استحکام کی تحسین اور زرمبادلہ کے ذخائر
امریکہ اور برطانیہ کے کامیاب دوروں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ نیویارک اور لندن میں اسٹیٹ بینک اور جے پی مورگن کے بینکرز نے پاکستانی معیشت کے حوالے سے حکومتی اقدامات کی بھرپور تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ آج پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے انتہائی پرکشش حالات موجود ہیں۔ انہوں نے خوشخبری سنائی کہ پاکستان نے یورو بانڈز کے اجرا میں بڑی کامیابیاں سمیٹی ہیں، جس کے بعد اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جبکہ ترسیلاتِ زر میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب ہمارا اصل ہدف اپنی معیشت کو مکمل طور پر برآمدی نمو (Export-led Growth) پر استوار کرنا ہے۔
ماضی کی غلطیوں کی اصلاح اور صنعتی ترقی
صنعتوں کو دی جانے والی ماضی کی معاونت پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایک تلخ حقیقت کا اعتراف کیا کہ 60 سال قبل کئی صنعتوں کو بھاری سبسڈیز دی گئیں اور انہیں نام نہاد ’سونے کے چنے‘ کھلائے گئے، مگر اس کے باوجود وہ ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کرنے میں ناکام رہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس تاریخی خامی کی تصحیح کیے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ بجٹ میں صنعتی ترقی اور کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے جو مراعات رکھی گئی ہیں، ان کے مثبت نتائج اب سامنے آرہے ہیں اور کراچی سمیت ملک بھر میں تعمیراتی شعبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
اداروں کی محنت اور آئی ایم ایف کا مؤقف
وزیراعظم نے اس تمام معاشی سفر میں عسکری قیادت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس تناظر میں اہم شخصیات کی کوششوں کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کھربوں روپے کی سرکاری زمینیں واگزار کرانے پر چیئرمین نیب کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی سربراہ نے ملاقات میں کہا کہ “یہ نیا پاکستان ہے”، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ “یہ نیا پاکستان نہیں بلکہ ایک نئی اور محنت کش ٹیم ہے”۔
آخر میں وزیراعظم نے ناظم آباد اور لاہور کے ترقیاتی منصوبوں پر بھی متعلقہ حکام کو مبارکباد دی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ نجی شعبے کو ساتھ لے کر ملکی معیشت کو بلند ترین سطح پر لے جائیں گے۔
G24 News Online ملکی معیشت، کاروبار، اور ترقیاتی سرگرمیوں سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




