تاریخ / مقام: پشاور / اسلام آباد
قومی و سیاسی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مطابق اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سے صوبے میں ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں کے مبینہ اغوا اور گرفتاری کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق 20 ستمبر سے اب تک متعدد اہم سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جن رہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی کے اغوا یا گرفتاری کے واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں، ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
- صوبائی وزراء اور ارکانِ اسمبلی کے اغوا کے واقعات:
- صوبائی وزیر تعمیرات و مواصلات شکیل خان کو 20 ستمبر کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔
- صوبائی وزیر آب پاشی فضل شکور خان کو 21 ستمبر کو موٹروے ٹول پلازہ سے اغوا کر لیا گیا۔
- چارسدہ سے رکن قومی اسمبلی فضل خان کو 22 ستمبر کو رشکئی سے اٹھایا گیا۔
- جنوبی وزیرستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی زبیر خان کو 22 اور 23 ستمبر کی درمیانی شب ڈیرہ اسماعیل خان میں ان کے گھر سے اغوا کیا گیا۔
- کولائی پالس سے رکن صوبائی اسمبلی محمد ریاض کو 25 ستمبر اور سوات سے رکن صوبائی اسمبلی سلطان روم کو 26 ستمبر کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا۔
- حجرے پر حملہ اور دیگر گرفتاریاں:
- رکن صوبائی اسمبلی عبدالکریم تورڈھیر کے صوابی میں واقع حجرے پر نامعلوم افراد نے حملہ کر کے شدید فائرنگ کی، جس کے بعد ان کے بھائی عبدالناصر اور تین محافظوں کو اغوا کر لیا گیا۔
- چترال سے رکن صوبائی اسمبلی فتح الملک ناصر اور ٹانک سے رکن قومی اسمبلی داور کنڈی کو اسلام آباد سے گرفتار کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
- انصاف لائرز فورم کے ریجنل جنرل سیکریٹری امیر اعجاز کو 17 ستمبر کو جبکہ انصاف ڈاکٹر فورم کے ڈاکٹر نبی جان کو بھی نامعلوم افراد کی جانب سے اغوا کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مردان سے رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی کے اغوا کا واقعہ بھی پیش آیا ہے جس کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
G24 News Online ملکی سیاسی صورتحال اور تمام اہم قومی خبریں غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک پہنچاتا رہے گا۔




