تاریخ / مقام: کراچی / اسلام آباد
بیورو رپورٹ — G24 News Online
تفصیل:
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 78ویں برسی آج ملک بھر میں انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ اس پروقار موقع پر مزار قائد پر اعلیٰ سرکاری حکام سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد حاضری دے رہی ہے اور بابائے قوم کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہے۔
ابتدائی زندگی اور قانونی کیریئر
قائداعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر سے حاصل کی اور 1893 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ روانہ ہوئے، جہاں 1896 میں بیرسٹری مکمل کرنے کے بعد وہ وطن واپس آئے۔ اپنی بے مثال قانونی قابلیت، استقامت اور اصول پسندی کے باعث وہ بہت کم عرصے میں برصغیر کے ممتاز ترین قانون دانوں میں شمار ہونے لگے۔
سیاسی سفر اور مسلم لیگ کی قیادت
وطن واپسی کے بعد قائداعظم نے عملی سیاست کا آغاز کیا اور 1906 میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی حقوق اور مفادات کے حوالے سے کانگریس کی پالیسیوں پر ان کے تحفظات بڑھتے گئے۔ 1913 میں انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور ایک عرصے تک دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی تعاون کی بھرپور کوششیں جاری رکھیں۔ بالآخر، کانگریس کی مسلم دشمن پالیسیوں سے اختلافات شدت اختیار کرنے پر انہوں نے 1920 میں کانگریس سے باضابطہ علیحدگی اختیار کر لی اور مسلم لیگ کی قائدانہ حثیت سنبھال کر مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے لیے تاریخ ساز جدوجہد کا آغاز کیا۔
تحریکِ پاکستان اور قیامِ پاکستان
سال 1937 میں مولانا مظہرالدین کی جانب سے محمد علی جناح کو ’’قائداعظم‘‘ کا العظیم لقب دیا گیا۔ آپ کی مدبرانہ سیاسی بصیرت، آئینی جدوجہد اور غیر متزلزل عزم کے نتیجے میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ اور آزاد وطن کے مطالبے نے عملی شکل اختیار کی، اور بالاخر 14 اگست 1947 کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک حقیقت بن کر ابھرا۔
گورنر جنرل کا منصب اور سانحہ ارتحال
قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم نے نئے مملکت کے پہلے گورنر جنرل کے طور پر فرائض سنبھالے۔ وہ ایک مضبوط، منظم، فلاحی اور جمہوری پاکستان کی تعمیر کے خواہاں تھے، تاہم شدید علالت نے انہیں زیادہ عرصہ اس خدمت کا موقع فراہم نہ کیا۔ قوم کے مخلص رہنما قائد اعظم محمد علی جناح 11 ستمبر 1948 کو خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
آج ان کی وفات کو 78 برس گزرنے کے باوجود پاکستانی قوم ہر سال اس عزم کے ساتھ یومِ وفات مناتی ہے کہ قائد کا نظریہ اور ان کی اصول پسندی ہمیشہ اس قوم کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ مزار قائد پر ہونے والی تقریبات اور ملک بھر میں منعقدہ خصوصی پروگرام اس امر کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں کہ قائد کی جدوجہد اور پاکستان کے قیام میں ان کا کردار آج بھی ہماری تاریخ کا سب سے روشن باب ہے۔
G24 News Online قومی تاریخ، ثقافت اور اہم شخصیات سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




