تاریخ / مقام: ریاض
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی ہے، جس کے بعد ایئرپورٹ کی سیکیورٹی اور فضائی آپریشنز کی معطلی سے متعلق شدید تشویش پھیل گئی ہے۔
ایئرپورٹ سے انخلا اور فضائی آپریشن معطل
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ اور عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد ایئرپورٹ پر افرا تفری پھیل گئی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) سے گفتگو کرتے ہوئے دو علاقائی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ واقعے کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر ایئرپورٹ کو خالی کرایا گیا اور تمام آمد و رفت کی فضائی ٹریفک کو فوری طور پر روک دیا گیا۔
حالیہ دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 5 مسافر شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ (ICU) میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے مزید جانی نقصان کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ دھماکے کی حتمی وجہ کی تصدیق کے لیے سرکاری تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
مسافروں کے لیے الرٹ اور سابقہ حملوں کی تفصیل
ایئرپورٹ انتظامیہ نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہونے سے قبل اپنی متعلقہ ایئرلائن سے رابطہ کر کے اپنی پرواز کی تازہ ترین صورتحال لازمی معلوم کریں۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ہفتے ہی ریاض ایئرپورٹ پر پے درپے حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق جمعرات کو ہونے والے دو حملوں میں 3 سعودی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، جبکہ ’سعودیہ ایئرلائنز‘ کے ایک طیارے کو بھی نقصان پہنچا تھا، جن کی ذمہ داری یمن کے حوثی گروپ نے قبول کی تھی۔
پاكستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور پی آئی اے کا ردِعمل
دوسری جانب، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ سعودی عرب کے لیے مجموعی پروازیں جاری ہیں، تاہم پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) نے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر ریاض کے لیے اپنی تمام پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
G24 News Online خطے کی سیکیورٹی صورتحال، فلائٹ آپریشنز اور تمام بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




