تاریخ / مقام: ویانا / بیجنگ
سائنس و ٹیکنالوجی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
عالمی سائنس دانوں نے ایک تاریخی پیش رفت حاصل کرتے ہوئے ایسی تجرباتی نیوکلیئر (جوہری) گھڑیاں تیار کر لی ہیں جو مستقبل میں وقت کی دقیق ترین پیمائش اور بنیادی طبیعیات (Physics) کی تحقیق میں ایک نیا انقلاب برپا کر سکتی ہیں۔
معروف عالمی سائنسی جریدے ‘نیچر’ (Nature) میں شائع ہونے والی جدید ترین تحقیق کے مطابق، یورپ اور چین کے سائنس دانوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے پہلی بار کامیابی سے یہ ثابت کیا ہے کہ نیوکلیئر گھڑیوں کو عملی طور پر وقت کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جانا ممکن ہے۔
عالمی اداروں کا اشتراک اور نئی ٹیکنالوجی
اس بین الاقوامی تحقیقی منصوبے میں ویانا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (آسٹریا)، جرمنی کے قومی ادارے برائے پیمائش (PTB) اور چین کی سنگھوا یونیورسٹی کے ممتاز محققین شامل تھے۔
روایتی ایٹمی (Atomic) گھڑیاں ایٹم کے الیکٹرانز کے گرد توانائی کی تبدیلیوں کو وقت ناپنے کے لیے استعمال کرتی ہیں، جو کہ بیرونی مقناطیسی یا برقی اثرات سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس کے برعکس، یہ نئی نیوکلیئر گھڑیاں ایٹم کے مرکزے (Nucleus) میں ہونے والی انتہائی محفوظ اور مستحکم توانائی کی تبدیلی پر کام کرتی ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ طریقہ وقت کی پیمائش کے لیے اب تک کا سب سے زیادہ حساس اور قائم رہنے والا نظام فراہم کرتا ہے۔
تھوریم-229 آئسوٹوپ پر مبنی جدید ڈیزائن
تیار کی گئی دونوں تجرباتی نیوکلیئر گھڑیاں ‘تھوریم-229’ (Thorium-229) نامی خاص آئسوٹوپ پر مبنی ہیں، جسے کیلشیم فلورائیڈ کرسٹل کے مادے میں یکجا کیا گیا ہے۔
- اس نظام میں ایک خصوصی الٹرا وائلٹ لیزر ایٹم کے مرکزے میں توانائی کی تبدیلی کو متحرک کرتا ہے۔
- ایٹم کا مرکزہ اس لیزر کی فریکوئنسی کو مستحکم رکھنے کے لیے ایک نیوکلیئر ریفرنس کا کام کرتا ہے، جس سے وقت کا ایک ایک لمحہ انتہائی باقاعدگی سے ناپا جا سکتا ہے۔
اگرچہ نیوکلیئر گھڑیوں کے یہ ابتدائی ماڈلز فی الحال موجودہ دور کی بہترین آپٹیکل ایٹمی گھڑیوں جتنی یکسانیت حاصل کرنے کے مرحلے میں ہیں، لیکن محققین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی اس ٹیکنالوجی کو مستقبل میں مزید تیز اور نقائص سے پاک بنانے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد بن چکی ہے۔
G24 News Online سائنس، ٹیکنالوجی اور دنیا بھر کی اہم تحقیقاتی خبریں غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




