ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

🚢 آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک میں بڑی گراوٹ؛ صرف 4 تجارتی جہاز گزرے، عالمی توانائی کی سپلائی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ

🚢 آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک میں بڑی گراوٹ؛ صرف 4 تجارتی جہاز گزرے، عالمی توانائی کی سپلائی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ
Spread the love

لندن/انٹرنیشنل ڈیسک: دنیا کے اہم ترین اور حساس ترین سمندری راستوں میں سے ایک، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں انتہائی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

📌 بحری ٹریفک میں ڈرامائی کمی اور اعداد و شمار

  • یومیہ تعداد میں کمی: عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کے روز اس اہم سمندری راستے سے محض 4 کموڈیٹی جہاز گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 9 ریکارڈ کی گئی تھی۔
  • جہازوں کی قسم: شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والے معروف ادارے ‘کپلر’ کے مطابق گزشتہ روز گزرنے والے جہازوں میں دو میڈیم رینج ٹینکرز، ایک کامسارمیکس کارگو جہاز اور ایک ہینڈی سائز جہاز شامل تھا۔
  • اوسط سے کم: یہ تعداد گزشتہ 10 دن کی تقریباً 15 جہازوں کی یومیہ اوسط کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، جو سمندری نقل و حرکت میں جمود کی عکاسی کرتی ہے۔

⚠️ ٹرانسپونڈر بند کرنے والے جہاز اور خام تیل کی ترسیل

  • پوشیدہ نقل و حرکت: رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ان اعداد و شمار میں وہ جہاز شامل نہیں ہیں جنہوں نے سکیورٹی وجوہات یا شناخت سے بچنے کے لیے اپنے ٹرانسپونڈر بند کر رکھے ہوں، اس لیے حقیقی تعداد اس سے کچھ زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
  • خام تیل بردار جہاز: کپلر کے مطابق رواں ہفتے اب تک صرف دو بہت بڑے خام تیل بردار جہاز (VLCCs) آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔

🌍 عالمی توانائی کی سپلائی پر ممکنہ اثرات

  • حیاتی اہمیت کی حامل گزرگاہ: آبنائے ہرمز دنیا کی انتہائی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جس کے ذریعے خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک تیل اور گیس کی بڑی کھیپ منتقل کی جاتی ہے۔
  • قیمتوں پر دباؤ کا خدشہ: ماہرین کا کہنا ہے کہ بحری ٹریفک میں اس طرح کی مسلسل اور شدید کمی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہونے اور قیمتوں میں اضافے کا شدید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *