تاریخ / مقام: اسلام آباد
قومی و قانونی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
سپریم کورٹ نے اپنے ہی پانچ سالہ بچے کے مبینہ قتل اور اسے جلا کر مارنے کے الزام میں قید ماں انیقہ کو جرم ثابت نہ ہونے اور عدم شواہد کی بنیاد پر بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس ملک شہزاد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے بعد صادر کیا۔
وکلاء کے دلائل اور سرکاری مؤقف
کیس کی سماعت کے دوران ملزمہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کے خلاف اپنے بچے کو جلا کر مارنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، تاہم تفتیش کے دوران ملزمہ کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد یا ثبوت سامنے نہیں آئے اور نہ ہی جائے وقوعہ سے پٹرول یا کوئی اور قابل ذکر چیز برآمد ہوئی ہے۔ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ مقدمے میں کوئی بھی براہِ راست گواہ موجود نہیں ہے۔
دوسری جانب سرکاری وکیل نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ ملزمہ کا اپنا ایک ویڈیو بیان موجود ہے جس میں اس نے ایک نجی ٹی وی شو کے دوران مبینہ طور پر بچے کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔
عدالتی ریمارکس اور تفتیشی افسر پر تنقید
سرکاری وکیل کے دلائل پر بینچ کے معزز رکن جسٹس شکیل احمد نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف ٹی وی پروگرامز یا ان میں دیے گئے بیانات قابلِ قبول شواہد نہیں ہوتے، بلکہ ٹی وی پروگرام کے ساتھ دیگر ٹھوس قانونی شواہد کا ہونا بھی لازمی ہے۔ انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ اس مقدمے میں تفتیشی افسر نے اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں غفلت برتی ہے۔
بینچ کے سربراہ جسٹس ملک شہزاد نے بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے میں موجود گواہیاں اور میڈیکل رپورٹ ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ عدالت نے استغاثہ کے کمزور شواہد اور تفتیش میں نقائص کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمہ انیقہ کو عدم شواہد کی بنا پر فوری طور پر بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
G24 News Online عدلیہ کے فیصلوں، قانونی چارہ جوئی اور تمام اہم قومی خبریں اپنے قارئین تک بروقت اور حقائق کے ساتھ پہنچاتا رہے گا۔




