ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

تفریح

علی حیدرآبادی کیس میں بڑا قانونی موڑ، سیشن عدالت نے ٹک ٹاکر کی ضمانت کنفرم کردی! 🚨

علی حیدرآبادی کیس میں بڑا قانونی موڑ، سیشن عدالت نے ٹک ٹاکر کی ضمانت کنفرم کردی! 🚨
Spread the love

تاریخ / مقام: لاہور

بیورو رپورٹ — G24 News Online

تفصیل:

معروف ٹک ٹاکر علی حیدرآبادی کے خلاف درج مقدمے میں ایک اہم اور ڈرامائی موڑ سامنے آیا ہے جہاں لاہور کی سیشن عدالت نے میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں ٹک ٹاکر کی ضمانت کی توثیق کرتے ہوئے انہیں بڑا قانونی ریلیف فراہم کر دیا ہے۔

عدالت میں سماعت اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹ

ایڈیشنل سیشن جج نورین انجم نے کیس کی سماعت کی، جس دوران ٹک ٹاکر علی حیدرآبادی کی جانب سے معروف قانون دان وکیل رانا انتظار حسین عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران عدالت میں پیش کی جانے والی باضابطہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ مدعیہ زینب کی جانب سے مقدمے میں ظاہر کی گئی چوٹیں جعلی ہیں۔ اس اہم انکشاف کے بعد مقدمے کے بنیادی الزامات اور استغاثہ کے شواہد پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔

وکلا کے دلائل اور ضمانت کی توثیق

علی حیدرآبادی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ مقدمے میں عائد کردہ بے بنیاد الزامات اور پیش کیے گئے مشکوک شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔ فریقین کے دلائل مکمل سننے کے بعد عدالت نے میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر علی حیدرآبادی کی ضمانت کی توثیق کا حکم جاری کر دیا، جس سے زینب کی مدعیت میں درج مقدمے میں ٹک ٹاکر کو بڑی قانونی کامیابی ملی ہے۔

جعلی شواہد بنانے والوں کے خلاف کارروائی کا اعلان

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل رانا انتظار حسین کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر جعلی میڈیکل شواہد تیار کروانے والے عناصر کے خلاف اب سخت قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کسی بھی بے گناہ شہری کے خلاف جھوٹے شواہد کی بنیاد پر کارروائی نہیں ہونی چاہیے اور قانون کو گمراہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ مقدمے میں آئندہ کی قانونی کارروائی دستیاب شواہد اور عدالتی احکامات کی روشنی میں آگے بڑھے گی۔

G24 News Online عدالتی اور قانونی امور سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *