واشنگٹن/انٹرنیشنل ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ میں امریکا کی فتح کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل اور پٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے زبردست کمی واقع ہوگی۔
📌 ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان اور قیمتوں سے متعلق پیشگوئی
- تیل اور پٹرول سستا ہونے کا دعویٰ: امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ جنگ جیتنے کے بعد تیل کی قیمتیں بہت تیزی سے نیچے آئیں گی اور امریکی صارفین کے لیے پٹرول کی قیمت تقریباً 3 ڈالر فی گیلن تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ بالآخر یہ 2 ڈالر فی گیلن سے بھی کم ہو سکتی ہے۔
- جوہری ہتھیاروں پر مؤقف: ٹرمپ نے اپنے بیان میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ ایران مستقبل میں کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
📈 عالمی مارکیٹ پر اثرات اور برینٹ خام تیل کی صورتحال
- قیمتوں میں اضافہ: حالیہ کشیدگی کے دوران عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بلند ہوئی ہیں اور مارکیٹ میں سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات برقرار ہیں۔
- برینٹ آئل کی قیمت: فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت حالیہ دنوں میں 98 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی ہے، جس سے دنیا بھر میں توانائی کے بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
⚖️ ماہرین کا تجزیہ اور زمینی حقائق
- سیاسی دعویٰ اور عملی انحصار: اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد صورتحال تیزی سے معمول پر آ جائے گی، تاہم اقتصادی ماہرین کے مطابق پیٹرول کی قیمت 2 ڈالر فی گیلن سے نیچے آنے کی یہ پیشگوئی ایک سیاسی دعویٰ ہے، جس کا عملی انحصار براہ راست عالمی تیل کی سپلائی، جنگ کے حتمی خاتمے اور بین الاقوامی مارکیٹ کی صورتحال پر ہوگا۔




