ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

ٹیکنالوجی

فیس بک، انسٹاگرام پر گالی گلوچ یا توہین کرنے سے پہلے سوچ لیں! یو اے ای کی 3 کروڑ 80 لاکھ روپے تک جرمانے کی وارننگ! 🇦🇪🚨

فیس بک، انسٹاگرام پر گالی گلوچ یا توہین کرنے سے پہلے سوچ لیں! یو اے ای کی 3 کروڑ 80 لاکھ روپے تک جرمانے کی وارننگ! 🇦🇪🚨
Spread the love

تاریخ / مقام: ابوظہبی / دبئی

بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کسی بھی شخص کی توہین کرنے، تضحیک آمیز تبصرے کرنے یا ہتکِ عزت پر مبنی مواد شائع کرنے والے صارفین کے خلاف شکنجہ کَس لیا گیا ہے۔ حکام نے سخت تنبیہ جاری کی ہے کہ آن لائن بدزبانی اور سائبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور قید کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ سخت وارننگ متحدہ عرب امارات کی ملک گیر آگاہی مہم ’’دی یو اے ای اِز سیف وِد یور ڈیجیٹل اویئرنیس‘‘ (The UAE is Safe with Your Digital Awareness) کے تحت جاری کی گئی ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد شہریوں اور رہائشیوں میں انٹرنیٹ کا ذمہ دارانہ استعمال فروغ دینا اور سائبر جرائم کے متعلق شعور بیدار کرنا ہے۔

وزارتِ داخلہ اور دبئی پولیس کی مشترکہ مہم

یہ اہم آگاہی مہم وزارتِ داخلہ نے دبئی پولیس اور دبئی الیکٹرانک سکیورٹی سینٹر کے تعاون سے شروع کی ہے۔ اکتوبر میں سائبر سکیورٹی آگاہی کے سلسلے میں جاری کردہ خصوصی ویڈیوز اور ہدایات میں سوشل میڈیا صارفین کو پرزور مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کوئی بھی تبصرہ، پوسٹ یا مواد شائع کرنے سے پہلے اس کے قانونی اور سماجی اثرات پر سنجیدگی سے غور کریں۔

سائبر کرائم قانون نمبر 34 اور سزاؤں کی تفصیلات

مہم کے دوران وفاقی قانون نمبر 34 برائے 2021 (انسدادِ افواہوں اور سائبر جرائم) کے آرٹیکل 43 کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے تحت:

  • جرمانہ اور قید: کسی شخص کی توہین کرنے یا اس سے ایسا واقعہ منسوب کرنے جس سے اسے قانونی سزا یا عوامی تضحیک کا سامنا کرنا پڑے، کی صورت میں عدالت مجرم کو قید اور 2 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ درہم (تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ پاکستانی روپے تک) جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دے سکتی ہے۔
  • سرکاری عہدیداروں کے خلاف جرم: اگر یہ جرم کسی سرکاری عہدیدار یا سرکاری خدمت انجام دینے والے شخص کے خلاف اس کے فرائض سے متعلق کیا جائے تو قانون کے تحت سزا میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔

تعمیری گفتگو اور احتیاط کی ہدایت

حکام نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو ذاتی حملوں یا تضحیک کے لیے استعمال کرنے کے بجائے تعمیری گفتگو، مثبت مکالمے اور مہذب انداز میں اختلافِ رائے کے اظہار کے لیے استعمال کریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شائع ہونے والے ہر مواد کی مکمل قانونی ذمہ داری متعلقہ صارف پر عائد ہوتی ہے۔ اس مہم کا دائرہ کار صرف آن لائن بدزبانی کی روک تھام تک محدود نہیں بلکہ اس میں انٹرنیٹ فراڈ، سائبر کرائمز اور مصنوعی ذہانت (AI) کے غلط استعمال سے بچاؤ سے متعلق آگاہی بھی شامل ہے۔

G24 News Online عالمی ڈیجیٹل قوانین، سائبر سکیورٹی، اور تمام اہم بین الاقوامی بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *