تاریخ / مقام: سوچی — روس / بحیرہ اسود
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
بحیرہ اسود میں روس کے مشہور ساحلی اور سیاحتی شہر سوچی کے قریب ایک بڑا سمندری واقعہ پیش آیا ہے جہاں یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں تیل بردار بحری جہاز میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی دل دہلا دینے والی ویڈیوز میں سمندر کے بیچوں بیچ ٹینکر سے بلند ہوتے شدید شعلوں اور سیاہ دھوئیں کے بلند و بالا بادلوں کو صاف دیکھا جا سکتا ہے۔
حملے کی تفصیلات اور بھارتی عملے کا انخلاء
روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، متاثرہ آئل ٹینکر پر لائبیریا کا پرچم لہرا رہا تھا جسے سمندری ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کے بعد ٹینکر میں موجود خام تیل نے فوری طور پر آگ پکڑ لی اور آگ کے فلک بوس شعلے بلند ہونے لگے۔ شدید نوعیت کے شعلوں اور دھوئیں کے باعث ریسکیو اور فائر فائٹنگ کے عملے کو آگ پر قابو پانے میں انتہائی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے تصدیق کی ہے کہ آئل ٹینکر پر عملے کے طور پر کل 23 بھارتی شہری سوار تھے۔ خوش قسمتی سے ریسکیو آپریشن کے دوران جہاز میں موجود تمام 23 بھارتی ارکان کو بروقت اور بحفاظت نکال لیا گیا ہے، البتہ اس دوران ایک بھارتی شہری کے معمولی زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
روس کا الزام اور بحیرہ اسود میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات
روسی حکام نے اس خطرناک حملے کا براہِ راست الزام یوکرین پر عائد کیا ہے، تاہم یوکرین کی جانب سے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی باضابطہ یا براہِ راست ردعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان 2022 میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے بحیرہ اسود میں تجارتی جہاز رانی مسلسل شدید خطرات کی زد میں ہے، اور دونوں جانب سے بحری و تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ محض ایک روز قبل رومانیہ کے ساحل کے قریب بھی ایک اور بحری جہاز آگ لگنے کے بعد ڈوب گیا تھا جس میں ایک شخص ہلاک اور ایک لاپتہ ہوگیا تھا۔ اس جاری کشیدگی نے خطے میں سمندری تجارت اور بین الاقوامی جہازوں کی سلامتی پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
G24 News Online بین الاقوامی سمندری امور، تنازعات اور تمام اہم عالمی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




